پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین پر اقدامات کی سفارش

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حقوق انسانی کے لیے سرگرم عالمی تنظیم ایمنٹسی انٹرنیشنل نے پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین کے جائزے پر مبنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ قوانین حقوق انسانی کے بین الاقوامی قانون سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں لہذا ان کے خاتمے کے لیے کوشش کرے۔
’تقریبا ہلاک: پاکستان میں توہین مذہب قانون کے اثرات‘ نامی اس رپورٹ میں تنظیم نے اعتراف کیا ہے کہ اسے معلوم ہے کہ پاکستان میں یہ انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس کا خاتمہ فوری طور پر ممکن نہیں ہوگا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے: ’اس کے خاتمے کے التواء کے دوران توہین مذہب کے الزامات کے نتیجے میں سنگین نتائج اور ملزمان کے لیے شدید خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ حکومت ایسے ادارہ جاتی اور عدالتی تحفظات متعارف کروائے تاکہ ان قوانین کے غلط استعمال کو روکا جاسکے۔‘
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت فوری بنیادوں پر قانونی ڈھانچے میں اصلاحات متعارف کروائے تاکہ توہین مذہب کے مقدمات میں پولیس، استغاثہ اور جج غیرجانبدارانہ طور پر بغیر کسی خوف یا دھونس کے اپنی ذمہ داری سرانجام دے سکیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
’وہ اسے تمام صوبوں میں لازمی قرار دے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ توہین مذہب کے تمام مقدمات کی تحقیقات کم از کم سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے کا افسر کرے تاکہ غلط یا بدنیتی پر مبنی شکایت یا جہاں شواہد ناکافی ہیں کی بنیاد پر عدالتی کارروائی نہ ہو۔‘
تنظیم نے تجویز دی ہے کہ اضافی طور پر جوڈیشل مجسٹریٹ کے وارنٹ کے بغیر پولیس کو لوگوں کو گرفتار کرنے یا تحقیقات کرنے کی اجازت ہو اور وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی شکایت کے بغیر عدالتوں کو توہین مذہب کے مقدمات پر کارروائی نہیں کرنی چاہیے۔
’سکیشن 295۔ سی کے تحت توہین مذہب کے لیے لازمی سزائے موت بغیر کسی تاخیر کے ختم کی جائے اور تمام سزائے موت تبدیل کی جائے۔‘
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں توہین مذہب سے جنم لینے والی حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں پر دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس سلسلے میں وہ 1991، 1994، اور 2001 میں بھی رپورٹس شائع کرچکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تازہ رپورٹ کے لیے مارچ اور نومبر 2015 کے دوران پاکستان کے تین دورے کئے گئے اور سو سے زائد افراد، جن میں وکلا، جج، پولیس اور جیل افسران، ان افراد سے جنھیں توہین مذہب کے الزامات کا سامنا ہے، ان مرد اور عورتوں سے جنھیں توہین مذہب کے الزامات سے بری کر دیا گیا ہے، ملزمان کے اہل خانہ، ذہنی امراض کے ماہرین، حقوق انسانی کے کارکنوں، صحافیوں، پاکستان نیشنل کمیشن فار ہومن رائٹس اور غیرسرکاری تنظیموں، سرکاری اہلکاروں اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے اراکین سے گفتگو کی ہے۔
رپورٹ کے لیے ٹرائل کورٹ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے 16 فیصلوں اور چھ ضمانت کے احکامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس رپورٹ کی تیاری کے دوران، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام سے مزید معلومات کی درخواست کی لیکن اس رپورٹ کو حتمی شکل دینے تک محض حکومت پنجاب سے جواب حاصل کر پائی۔ رپورٹ میں جہاں افراد جن کے انٹرویو کیے گیے یا ذرائع جنہوں نے توہین مذہب سے متعلق سرکاری اعداد و شمار فراہم کئے اور جن کے تحفظ کے خدشات تھے وہاں ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، پارلیمان اور دیگر متعلقہ اداروں کو الگ الگ تجاویز دی ہیں۔ پارلیمان کے لیے دی گئی تجاویز میں سر فہرست
- پینل کوڈ 1860 جسے توہین مذہب کے قوانین بھی کہا جاتا ہے کے سیکشن 295، 295۔اے، 295۔ بی، 295۔ سی، 298 ۔ بی اور 298۔ سی کا خاتمہ
- سزائے موت کے مکمل خاتمے تک، سکیشن 295 ۔ سی کے تحت بغیر کسی تاخیر کے سزائے موت ختم کر دیں۔
- تمام سزائے موت پر پابندی اور پہلے سے سنائی گئی سزائے موت کو تبدیل کرنا۔
- انسداد دہشت گردی کے 1997 ایکٹ میں سیکشن 295 ۔ اے اور 298 ۔ اے کو شیڈولڈ جرائم کی فہرست سے ہٹانا۔
اس نے پارلیمان سے توہین مذہب کے تمام جرائم کو ناقابل دست اندازی بنانے کا مطالبہ بھی کیا تاکہ پولیس عدالت کے وارنٹ کے بغیر نہ تو توہین مذہب کے الزام کا سامنا کرنے والے کو گرفتار کرسکے اور نہ تمام الزامات کی تحقیقات کرسکے اور کوڈ آف کریمنل پروسیجر کے شیڈول ٹو میں ترمیم کی جائے تاکہ توہین مذہب کے تمام جرائم میں ملزمان کی ضمانت ہوسکے اور یقینی بنایا جائے کہ ضمانت سے انکار نہ کیا جائے ماسوائے جب عدالتی کارروائی میں رہائی کا امکان ہو۔ ضمانت محض اس وقت نہ دی جائے جب کسی شخص کی رہائی سے واضح وجوہات ہوں کہ رہائی انصاف کی راہ میں روکاوٹ بن رہی ہو۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تنظیم نے اقوام متحدہ کے آذادی خیال و اظہار کے خصوصی مندوب اور اقوام متحدہ کے آذادی مذہب یا عقائد کے خصوصی مندوب کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی جائے تاکہ اس کی آزادی اظہار اور آذادی مذہب یا عقائد سے وابستگی اور سنجیدگی ظاہر ہوسکے۔
رپورٹ کے مطابق اگر صرف محض پنجاب پر نطر ڈالیں تو توہین مذہب کے قانون کے کم از کم 1296 مقدمات درج ہیں جن میں سے 119 کو منسوخ کرنے کی تجویز دی جاچکی ہے۔ تمام پاکستان میں مجموعی طور پرکم از کم 215 افراد توہین مذہب کے مقدمات کی سماعت جاری ہے: پچاسی فیصد پنجاب میں (کم از کم 184 سال 2015 کے اواخر میں ریکارڈ ہوئے ہیں)۔
سندھ میں 31 مقدمات زیر سماعت ہیں، کم از کم اکیس افراد، انیس مرد اور دو عورتیں، توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت دی جاچکی ہے۔ ان میں سے کسی سزا پر ریاست نے اب تک عمل درآمد نہیں کروایا ہے۔







