سانحہ بلدیہ، رحمان بھولا 19 دسمبر تک ریمانڈ پر

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پولیس نے کراچی میں بلدیہ گارمنٹس فیکٹری میں آتشزدگی کے مرکزی ملزم رحمان بھولا کا 19 دسمبر تک جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے کی ٹیم نےگذشتہ روز رحمان بھولا کو بینکاک سے کراچی پہنچایا اور بدھ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر کے ان کا ریمانڈ لیا۔
واضح رہے کہ بلدیہ گارمنٹس فیکٹری میں آتشزدگی کے مرکزی ملزم رحمان بھولا کی گرفتاری گذشتہ دنوں انٹرپول کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی۔
ڈی آئی جی ذوالفقار لاڑک کا کہنا ہے کہ رحمان بھولا سے تفتیش کے لیے جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم تشکیل دی جائے گی تاکہ حقائق سامنے آسکیں تاہم آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کا کہنا ہے کہ بلدیہ فیکٹری واقعے کی تحقیقات جو ٹیم پہلے کر رہی ہے وہ تفتیش کو جاری رکھے گی۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت اس مقدمے میں رحمان بھولا کو پہلے ہی مفرور قرار دے چکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت میں پیشی کے موقعے پر رحمان بھولا کا دعویٰ تھا کہ فیکٹری میں آگ انھوں نے نہیں بلکہ اصغر بیگ نے لگائی تھی۔
پاکستان کی صنعتی تاریخ کے سب سے بڑے حادثے میں کراچی کے بلدیہ ٹاؤن میں واقع کارخانے علی انٹرپرائزز میں 12 ستمبر سنہ 2012 کو آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں 255 افراد جھلس کر ہلاک ہوگئے تھے۔
ابتدائی طور پر آتش زدگی کے اس واقعے کو حادثاتی قرار دیا گیا تھا لیکن بعد میں جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم نے واقعہ کو تخریب کاری قرار دیا تھا اور تحریری رپورٹ میں یہ کہا تھا کہ بھتہ نہ ملنے پر فیکٹری میں آگ لگائی گئی تھی۔
پولیس نے گذشتہ روز غیر قانونی اسلحے کے الزام میں ایک ملزم یوسف عرف گدھا گاڑی والا کو گرفتار کیا تھا جس نے دوران تفتیش دعویٰ کیا ہے کہ رحمان بھولا نے ہی فیکٹری میں آگ لگائی تھی۔







