آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بلاول بھٹو زرداری کا لاہور میں مستقل قیام کا فیصلہ
- مصنف, بیورو رپورٹ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں سکونت اختیار کرنے اور اسی شہر سے سیاست کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس فیصلہ کا اعلان بلاول بھٹو زرداری نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔
بدھ کو بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ ماہ جنوری سے لاہور میں رہائشی رکھیں گے اور یہاں سے سیاست کریں گے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین کے بقول جب بھٹو اور لاہور اکٹھے ہوں گے تو زبردست سیاست ہوگی۔
بلاول بھٹو زرداری ان دنوں صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہیں جہاں وہ اپنی جماعت پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کی تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کے نانا اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 49 برس پہلے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔
لاہور پیپلز پارٹی کا سیاسی اور انتخابی قلعہ رہا تاہم سنہ 1990 کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی اس شہر پر گرفت کمزور سے کمزور ہوتی گئی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پیپلز پارٹی کے قائدین میں سے کسی نے لاہور میں قیام اور اسی شہر سے سیاست سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی بیٹی بینظر بھٹو نے صوبائی دارالحکومت لاہور سے انتخاب لڑا اور یہاں سے کامیابی حاصل کی۔
سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی بھی یہ خواہش رہی ہے کہ لاہور میں قیام کرکے اس شہر سے سیاست کی جائے۔
اسی خواہش کے لیے آصف علی زرداری نے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں اپنے خلاف مقدمات سے رہائی کے بعد لاہور میں سیاست کا فیصلہ کیا اور لاہور میں کینٹ کے علاقے میں ایک گھر کرایہ پر لے کر سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔
تاہم کچھ عرصہ بعد آصف علی زرداری کے بیرون ملک جانے سے یہ مرکز ویران ہوگیا۔
لاہور کے جدید علاقے بحریہ ٹاؤن میں بلاول ہاؤس کی تعمیر بھی اس خواہش کی کڑی ہے اور بلاول ہاؤس پیپلز پارٹی کی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔
آصف علی زرداری نے صدر مملکت کے منصب سے سبکدوش ہونے ایوان صدر سے لاہور بلاول ہاؤس آئے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کی یہ رائے ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو صوبائی دارالحکومت لاہور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اس شہر کو نظر انداز کرکے پیپلز پارٹی کو پنجاب میں بحال نہیں کیا جا سکتا۔