سوات میں پہلی بار خواتین کے لیے ثقافتی میلہ

سوات
،تصویر کا کیپشنمیلے کے منتظمین کے مطابق اس میلے کا مقصد ثقافتی ورثے سے اگاہی اور دنیا کو امن کا پیغام پہنچانا ہے
    • مصنف, انور شاہ
    • عہدہ, صحافی، سوات

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں خواتین کے لیے درخانئی کے نام سے دو روزہ ثقافتی میلے کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں سوات کے علاوہ دیگر علاقوں سے خواتین کی بڑی تعداد شریک ہیں۔

اس میلے میں مختلف قسم کے سٹالز بھی لگائے گئے ہیں جبکہ ثقافتی موسیقی کے پروگرامز بھی جاری ہیں۔ یہ میلہ مختلف تنظیموں کے تعاون سے ضلعی حکومت کے زیر انتظام منعقد ہوا ہے۔

میلے میں خواتین کے لیے مختلف قسم کےسٹالز لگائے گئے ہیں جس میں ہینڈی کرافٹس، سواتی شال اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کے سٹالز خواتین کے دلچسپی کا مرکز رہے ہیں۔

میلے کے منتظمین کے مطابق اس میلے کا مقصد ثقافتی ورثے سے اگاہی اور دنیا کو امن کا پیغام پہنچانا ہے۔

سوات
،تصویر کا کیپشنسوات کی خاتون ضلعی کونسلر اور کلچرل کمیٹی کی چیئر پرسن نسیم اختر نے اس میلے کا باقاعدہ افتتاح کیا

اس میلے میں آئی ہوئی ایک خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ثقافتی میلہ امن اور رواداری کی بہترین مثال ہے اورہم ہمیشہ پرامن اور ثقافتی ورثے کے امین رہے ہیں لیکن بد قسمتی سے کچھ عرصہ قبل شدت پسندی کے باعث ہم بد امنی کے نرغے میں رہے۔‘

ان کے بقول ’طالبان نے سب سے زیادہ جبر خواتین پر کرکے انہیں گھروں میں مقید رکھا لڑکیوں پر تعلیمی دروازے بند کیے اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ ان کے ظلم آج بھی ہمارے ذہنوں پر نقش ہیں لیکن اب ہم ان کے خوف سے خود کو آزاد محسوس کرتے ہیں۔‘

سوات کی خاتون ضلعی کونسلر اور کلچرل کمیٹی کی چیئر پرسن نسیم اختر نے اس میلے کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

سوات
،تصویر کا کیپشنپہلا روز خواتین کے مختص تھا جبکہ دوسرا روز فیملیز کے لیے مختص کیا گیا

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہاں منعقد ہونے والا یہ اپنی نوعیت کا پہلا میلہ ہے جو خواتین کے لیے ہے۔ جس میں سٹالز پر سامان فروخت کرنے والے اور خریدار سب خواتین ہیں اور اس میلے میں پاکستان کے دیگر صوبوں کی خواتین نے سٹالز لگائے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’میلے کے انعقاد کا مقصد دنیا کو باور کرانا ہے کہ سوات پر امن علاقہ ہے اور یہاں کے باسی امن سے محبت رکھنے والے ہیں۔‘

یہ دو روزہ ثقافتی ستائیس نومبر تک جاری رہے گا پہلا روز خواتین کے مختص تھا جبکہ دوسرا روز فیملیز کے لیے مختص کیا گیا ہے اس میلے میں روایتی رقص بھی پیش کیا جارہا ہے جبکہ علاقائی موسیقی کا انتظام بھی کیاگیا ہے۔