آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا، پاکستان قیام امن کے لیے مذاکرات کریں: برطانوی وزیر خارجہ
- مصنف, عبداللہ فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
برطانوی وزیرِ خارجہ بورس جانسن نے انڈیا اور پاکستان کو 'بوم زون' کہتے ہوئے دونوں ممالک کی حکومتوں پر زور دیا کہ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے اور امن قائم کرنے کے لیے مذاکرات کریں تاکہ اِس خطے میں موجود لوگوں کی ناقابلِ یقین صلاحتوں سے فائدہ اُٹھا یا جا سکے۔
وہ جمعرات کے روز پاکستان کے اپنے پہلے دورے پر اسلام آباد پہنچے اور اُنھوں نے پاکستان میں وزیرِ اعظم کے مشیرِ اُمور خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں اُنھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تین مخلتف شعبوں میں وسیع تر سٹرٹیجک ڈائیلاگ آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے جن میں سیکیورٹی، تجارت اور ثقافتی اور دانشورانہ تعاون شامل ہے۔
برطانوی وزیرِ خارجہ نے امریکی منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس بیان کی حمایت کہ نیٹو کے فوجی اتحاد کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اور کہا ’برطانیہ اپنی مجموعی قومی پیداوار کا دو فیصد اِس پر خرچ کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اس ملٹری اتحاد کو مضبوط بنانا چاہیے۔‘
پاکستان کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ ’برطانیہ کی آبادی کے دو فیصد کی جڑیں پاکستان میں ہیں اور اِن میں میرے خاندان کے چند لوگ بھی شامل ہیں۔‘
بورس جانسن نے کہا دونوں ممالک باہمی تجارت کو سالانہ بنیادوں پر ڈھائی ارب پاؤنڈز سے آگے لے جا سکتے ہیں۔
برطانوی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا 'اِس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ بزنس انگیجمنٹ کا ایک پروگرام شروع کیا جائے گا جس میں صرف وسیع تر سٹرٹیجک ڈائیلاگ پر توجہ مرکوز نہیں رکھی جا ئے گی بلکہ اگلے سال پاکستان کی سترویں سالگرہ کے موقع پر جو مواقع میسر آئیں گے اُنھیں بروئے کار لاتے ہوئے دو طرفہ تعلقات کو آگے لے جا سکتے ہیں۔‘
اِس مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ نفیس ذکریا نے بتایا کہ پاکستان نے انڈیا میں منعقد ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک اور سوال کہ لائن آف کنٹرول پر موجودہ صورتحال میں بھی کیا پاکستان کو اِس کانفرنس میں شرکت کرنی چاہیے نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ملک کی سیاسی قیادت کو کرنا ہے۔