سندھ ہائی کورٹ کا صوبے میں تمام شراب خانے بند کرنے کا حکم

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ کی ہائی کورٹ نے صوبے بھر میں فوری طور پر شراب خانے بند کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
عدالت نے یہ حکم جمعرات کو صوبے میں شراب خانے کھلنے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دیا۔
سماعت کے دوران ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل غلام مصطفیٰ مہیسر نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں ڈویژن بینچ کے روبرو پیش ہو کر بتایا کہ صوبے بھر میں 21 ہول سیلرز ہیں جو شراب خانوں، ہوٹلوں اور تقریبات میں شراب فراہم کرتے ہیں۔
انھوں نے تفصیل کے ساتھ وہ طریقۂ کار بھی بیان کیا کہ کس طرح یہ شراب فیکٹریوں سے آتی اور محکمہ ایکسائز کی نگرانی میں فراہم ہوتی ہے۔
عدالت نے محکمہ ایکسائز سے دریافت کیا کہ اس سلسلے میں اقلیتی برادری کے مذہبی رہنماؤں سے کیا مشاورت کی گئی ہے کہ ان کے کن تہواروں پر شراب استعمال کی جاتی ہے تو محکمے کی جانب سے بتایا گیا کہ کیونکہ یہ حکم زبانی تھا اس لیے یہ مشاورت نہیں کی گئی۔
اس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے سماعت کے دوران موجود مسیحی، ہندو اور سکھ کمیونٹی کے مذہبی رہنماؤں سے فرداً فرداً معلوم کیا کہ کیا ان کے مذہبی تہواروں پر شراب استعمال کی جاتی ہے تو ان تینوں مذاہب کے رہنماؤں نے بتایا کہ بائبل، گیتا اور گرو گرنتھ صاحب میں ایسی کوئی اجازت نہیں اور شراب کے نام پر انھیں دراصل بدنام کیا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI
اس پر چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے حکم جاری کیا کہ فوری طور پر شراب خانے بند کر دیے جائیں اور ہر شراب خانے کے سامنے دو دو پولیس اہلکار تعینات ہوں اور بندش کی رپورٹ کے ہی دن عدالت میں رپورٹ پیش کی جائے۔
انھوں نے ہدایت کی کہ نیا ضابطہ اخلاق بنا کر نئے سرے سے لائسنس جاری کیے جائیں۔ عدالت کے فیصلے پر اقلیتی برداری اور بعض وکلا نے تالیاں بجا کر فیصلے کا خیر مقدم کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالتی حکم کے بعد آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے تمام پولیس افسران کو حکم دیا ہے کہ فوری طور پر عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے شراب خانے سیل کیے جائیں۔
پولیس ترجمان کے مطابق ٹنڈو محمد خان، مٹیاری، شہید بینظیر آباد، نوشہرو فیروز، عمر کوٹ، جام شورو، حیدرآباد، دادو، سانگھڑ، ٹھٹہ اور دیگر شہروں میں شراب خانے سیل کر دیے گئے ہیں۔
اس سے قبل محکمے ایکسائز کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا تھا کہ صوبے بھر میں 159 شراب خانے ہیں جن کی اکثریت کراچی میں موجود ہے اور ان شراب خانوں سے غیر مسلم کمیونٹی کو شراب فروخت کی جاتی ہے۔
خیال رہے کہ ہندو ہیلپ لائن نامی تنظیم کے صدر آتم پرکاش اور کرسچیئن ہیلپ لائن کے سلیم مائیکل نے عدالت میں مشترکہ طور پر درخواست کی تھی کہ مسیحی اور ہندو مذہب بھی نشہ کرنے اور شراب کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا، اس لیے اقلیتوں کے نام پر شراب کی فراہمی بند کی جائے۔

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI
انھوں نے کہا کہ اگر کچھ مسلمان شراب پینا چاہتے ہیں تو پیئیں مگر انھیں بدنام نہ کریں کیونکہ جب ملازمت کی بات آتی ہے تو اقلیتوں کا کوٹہ پانچ فیصد مخصوص ہوتا ہے مگر شراب 100 فیصد ہمارے نام پر ملتی ہے۔
کراچی شہر میں جماعت اسلامی کی جانب سے شراب خانے بند کرنے کے لیے مہم بھی چلائی گئی ہے جس کے تحت کئی علاقوں میں بینر آویزاں کیے گئے ہیں۔







