المائڈا کا نام ای سی ایل سے خارج، فوج کی تشویش برقرار

سرل المائڈا

،تصویر کا ذریعہFacebook

    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

حکومت پاکستان نے انگریزی اخبار ڈان کے نامہ نگار پر بیرون ملک جانے پر پابندی واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

سرل المائڈا کا نام فوج اور سول حکومت میں مبینہ اختلافات کی ایک خبر کو شائع کرنے کی وجہ سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر لیا گیا تھا۔ تاہم دوسری جانب اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے ایک اجلاس میں اس خبر کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فوج نے اسے قومی سلامتی کی خلاف ورزی بھی قرار دیا ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے آج اسلام آباد میں اخبارات کی دو تنظیموں کونسل آف نیوز پیپز ایڈیٹرز اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے مشترکہ وفود سے ایک ملاقات میں اخبار ڈان کے نامہ نگار سرل المائڈا کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا۔

اجلاس کے بعد بتایا گیا کہ سرل المائڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکلنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق تاہم اس فیصلے سے اس خبر کے بارے میں جاری تحقیقات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

سرل المائڈا

،تصویر کا ذریعہTwitter

بیان میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ آزاد میڈیا قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرے بلکہ دشمنوں کے پروپیگینڈے کا مقابلہ بھی کرے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے گذشتہ روز ایک اخباری کانفرنس میں بتایا تھا کہ وزیراعظم اور بری فوج کے سربراہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اس خبر کی تحقیقات ہوں گی۔ ان کا اس فیصلے کے دفاع میں کہنا تھا کہ اگر ایسے نہ کیا جاتا تو کہا جاتا کہ حکومت نے خود خبر لیک کی اور پھر خود ہی خبر دینے والے کو ملک سے بھگا دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈان کے صحافی کا نام ای سی ایل میں اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ خبر کس نے افشا کی۔

ادھر جی ایچ کیو راولپنڈی میں آج کور کمانڈر اجلاس بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ڈان کی خبر پر بھی غور ہوا۔

سرل المائڈا

،تصویر کا ذریعہAFP

اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ کور کمانڈروں نے وزیر اعظم ہاؤس میں گذشتہ دنوں ایک اہم سکیورٹی اجلاس کے بارے میں بقول اس کے غلط اور من گھڑت خبر چلانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

اجلاس نے اسے قومی سلامتی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، تاہم تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ ایک جانب فوج اسے غلط اور بے بیناد خبر قرار دے رہی ہے اور دوسری جانب اگر یہ خبر غلط ہے تو پھر اسے خلاف ورزی کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟