اوباما: اقتصادی مشیروں سے بات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے نو منتخب صدر باراک اوباما مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے حمکت عملی پر غور کرنے کے لیے آج اقتصادی امور کے اپنے مشیروں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ اس کے بعد باراک اوباما منتخب ہونے کے بعد پہلی مرتبہ میڈیا سے بات کریں گے۔ نو منتخب صدر کو اب اقتصدای صورتحال پر خاص توجہ دینی ہوگی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ غیر یقینی کی موجودہ صورتحال میں وال سٹریٹ کو یقین دہانی اور اعتماد سازی کی اشد ضرورت ہے۔ پچھلے دو روز میں حصص کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ ہوئی ہے جس کے نتیجے میں امریکی کمپنیوں کی قیمت میں تقریباً دس فیصد کمی ہوئی ہے۔ اوباما اور ان کے نائب سینیٹر جو بائڈن عبوری دور کے لیے اقتصادی امور سے متعلق اپنے بورڈ کے سترہ ممبران سے جمعہ کو ملیں گے۔ اس اجلاس میں مرکزی بینک کے سابق سربراہ پال وولکر اور کابینہ کے سابق اہلکاروں کے علاوہ کئی بڑی کپمنیوں کے اہلکار بھی شریک ہونگے۔ ارب پتی سرمایا کار وارین بفٹ بھی فون کے ذریعے اس میں شریک ہونگے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب کا کہنا ہے کہ نومنتخب صدر پر نئے وزیر خزانہ نامزد کرنے کا خاصا دباؤ ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہ اس عہدے کے لیے پال وولکر کے علاوہ نیو یارک فیّرل ریزیرو بینک کے صدر ٹموتھی گائٹنر اور کلنٹن دور کے دو وزرائے خزانہ لیری سومرز اور رابرٹ روبن کے ناموں پر غور کر رہے ہیں۔ جمعہ کو باراک اوباما نے نو عالمی رہنماؤں سے فون پر بات کی۔ ان میں برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن، فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی اور جرمنی کی چانسلر اینگلا میرکل شامل ہیں۔ اطلاعت کے مطابق عالمی مالیاتی بحران اور اس سے نمٹنے کے ممکنے طریقہ کار پر بات ہوئی۔ پندرہ نومبر کو واشنگٹن میں جی ٹیوینٹی تنظیم کا سربراہی اجلاس شروع ہو رہا ہے، تاہم یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ امریکہ کے نو منتخب صدر اس میں شریک ہونگے یا نہیں۔ |
اسی بارے میں بش اوبامہ ملاقات آئندہ پیر کو07 November, 2008 | صفحۂ اول حکومت سازی کا عمل شروع06 November, 2008 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||