BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 November, 2008, 02:10 GMT 07:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بش اوبامہ ملاقات آئندہ پیر کو
رام ایمانویل واشنگٹن میں انتظامی امور کا خاصا ادراک رکھتے ہیں اور ان کو متنازع شخصیت سمجھا جاتا ہے
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ وہ اور نو منتخب صدر باراک اوباما اگلے ہفتے کے آغاز میں ہونے والی ملاقات میں عالمی مالیاتی بحران اور عراق میں جاری جنگ جیسے معاملات پر بات چیت کریں گے۔

وائٹ ہاؤس میں اپنے خطاب میں انہوں نے نو منتخب صدر کو مبارک باد دی اور کہا کہ ان کی ہر ممکن کوشش ہو گی کہ بیس جنوری کو انتقالِ اقتدار بغیر کیس رکاوٹ کے طے پائے۔

نو منتخب صدر باراک اوبامہ جمعے کو اپنے معاشی مشیروں سے ملاقات کے بعد جمعے کے روز ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کریں گے۔

مسٹر باراک اوبامہ منگل کے روز ہونے والے انتخابات میں ریپبلکن امیدوار جان مکین کو شکست دے کر امریکی کے نئے صدر منتخب ہوئے۔ وہ اس اعلیٰ سیاسی عہدے تک پہنچنے والے پہلے سیاہ فام افریقی نژاد امریکی رہنما ہیں۔

دوسری طرف کانگریس کے رکن رام ایمانویل نے نو منتخب صدر کے چیف آف سٹاف کے عہدے کی پیش کش قبول کر لی ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق رام ایمانویل واشنگٹن میں انتظامی امور کا خاصا ادراک رکھتے ہیں اور ان کو ریپبلکنز کی طرف سے متنازع حد تک سیاسی شحضیت ہونے کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ وہ نئی انتظامیہ میں اندرونی مینیجمنٹ کے ذمہ دار ہوں گے۔

امریکی ٹی وی چینل اے بی سی نیوز نیٹ ورک کے مطابق باراک اوبامہ کی انتخابی مہم کی حکمت عملی کے انچارج ڈیوڈ ایکسل روڈ نے وائٹ ہاؤس کا مشیر بننے کی پیش کش قبول کر لی ہے۔ بش انتظامیہ میں کارل رو اور ڈین بارٹلیٹ اس عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق معاشی کساد بازاری اور عالمی معاشی بحران کے پیش نظر سیکریٹری خزانہ کی تعیناتی باراک اوباما کا نئی انتظامیہ سے متعلق ایک اور اہم فیصلہ ہو گا۔

اس سلسلے میں سابق سیکریٹری خزانہ لیری سمرز اور فیڈرل ریزرو کے سابق سربراہ پال وولکر کو ممکنہ امیدوار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

واشنگٹن میں یہ قیاس آرائیاں بھی کی جاری ہیں کہ باراک اوبامہ سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر وزیر دفاع رابرٹ گیٹس جیسے ریپبلکن شخصیات کو اپنی انتظامیہ میں شامل کریں گے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کی نامہ نگار جین او برائن کا کہنا ہے کہ مسٹر رابرٹ گیٹس کو دونوں جماعتوں میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور ان کی اپنے موجودہ عہدے پر بدستور موجودگی نئی انتظامیہ پر قومی اتفاقِ رائے کو ظاہر کرے گی۔

دوسری طرف شکاگو میں بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونولی کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا عہدے اوباما کی انتخابی مہم کے مشیر رابرٹ گبز کے حصے میں آئے۔

جمعرات کے روز موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق نو منتخب صدر باراک اوبامہ نے ریاست نارتھ کیرولائنا میں بھی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ریاست نارتھ کیرولائنا کے پندرہ ووٹوں کی وجہ سے باراک اوباما کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد تین سو چونسٹھ ہو گئی ہے جبکہ جان مکین کے حصے میں ایک سو باسٹھ ووٹ آئے ہیں۔

اب صرف میسوری ہی ایک ایسی ریاست رہ گئی ہے جس کے بارے میں کوئی بھی پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔

اوباما اوباما اور عالمی دنیا
دنیا اوباما کی فتح پر خوش ہے
اوبامہفوری توجہ کے طالب
بیرونی محاذ پر اوبامہ کے لیے دس چیلنج
باراک اوباماانتخاب کے بعد
باراک اوباما کس قسم کے صدر ہوں گے؟
کینیا میں۔۔۔
بھی اوباما کے حق میں ووٹ ڈلے۔۔۔
چند دلچسپ حقائق
تاریخی امریکی انتخابات میں تاریخ ساز فتح
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد