بیرونی محاذ پر اوباما کے لیے دس چیلنج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے نو منتخب صدر باراک اوباما جب بیس جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے تو انہیں خارجہ پالیسی سے متعلقہ کئی اہم مسائل کا سامنا ہو گا۔ ذیل میں ہم ایسے دس چیلنجوں کا ذکر کر رہے ہیں جن کا انہیں ہو گا۔
جس طرح امریکی رائے دہندگان نے سینیٹر باراک اوباما کو بھاری اکثریت سے کامیابی دلائی ہے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے وہ صدر بش کی خارجہ پالیسی میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی چاہتے ہیں۔
باراک اوبامہ سے رائے دہندگان کو جو بھی امیدیں وابستہ ہوں، یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ امریکی صدر کو نہ چاہتے ہوئے بھی جھگڑوں میں کودنا پڑتا ہے۔ اس بات کے پیش نظر کسی کو بھی جھگڑوں سے پاک دورِ صدارت کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ نو منتخب صدر باراک اوباما جب اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے تو انہیں ورثے میں دو جنگیں ملیں گی۔ وہ ان جنگوں کے بارے میں کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں؟ یہی بات ان کے دور کی خصوصیت بن کر ابھرے گی۔
باراک اوباما کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کمانڈروں سے کہیں گے کہ وہ ’جنگ کی کامیاب تکمیل‘ کو اپنے مشن کا حصہ بنا لیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ایسا ذمہ دارانہ طریقے سے کیے جانے کی ضرورت ہے۔ وہ اس کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ عراقی حکومت کو اتنا وقت دیا جائے کہ وہ اپنی فوج کو مضبوط بنا سکے۔ وہ امریکی فوج کی اپنی حلف برداری کے سولہ ماہ کے اندر مرحلہ وار واپسی کے حامی ہیں۔ اس لحاظ سے یہ عرصہ مئی دو ہزار دس بنتا ہے۔ ممکنہ طور پر یہ ان کی پالیسی کی ایک بڑی کامیابی ہو سکتی ہے۔ تاہم اس صورت میں بھی کچھ بچی کھچی فوج عراق میں موجود رہے گی تاکہ القاعدہ کے خلاف کارروائیوں کر سکے۔ پس اس پالیسی کے تحت بھی امریکی فوج کا مکمل انخلاء مقصود نہیں ہے۔
افغانستان باراک اوباما کے ایجنڈے میں شاید سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اگر عراق میں جنگ اپنے خاتمے کے قریب ہے تو افغانستان میں اس کا ابھی آغاز ہو رہا ہے۔
افغانستان میں صورتِ حال کو بہتر بنانے کا مطلب ہے افغان حکومت کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور پاکستان کے ساتھ مزید فعال پالیسی کو متعارف کرانا تاکہ پاکستان کے سرحدی قبائلی علاقوں میں چھپے ہوئے طالبان اور القاعدہ عناصر کو کمزور بنایا جا سکے۔
ہو سکتا ہے کہ اوباما کے دور میں صدر بش کی اس ترکیب کو وہ اہمیت نہ حاصل ہو سکے جس گزشتہ ساتھ سالوں میں اس کا خاصا رہی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ کی روایتی اقدار سے مطابقت رکھنے والی خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ’نظریات کی جنگ‘ جیتنے پر توجہ دی جائے۔ ان کی خواہش ہے کہ القاعدہ کے پراپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی دنیا میں متعدل خیالات رکھنے والے عناصر کو اپنے ساتھ ملایا جائے۔ تاہم ان کی پالیسی کا ایک سخت پہلو بھی ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ان دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کریں گے جو امریکہ کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ اس سلسلے میں ان کی پالیسی کے دو اشاریے ہوں گے یعنی گوانتانامو کے حراستی مرکز کی بندش اور ٹارچر پر پابندی کا سی آئی اے پر بھی اطلاق۔ اگر گوانتانامو کا حراستی مرکز بند ہوتا ہے تو انہیں اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس وقت مرکز میں موجود دو سو پچپن افراد میں سے شدت پسند رحجانات رکھنے والے عناصر کے ساتھ کیا کیا جائے۔ مسٹر اوباما نے کئی مواقع پر کہا ہے کہ ایسے قیدیوں کے مقدمات کو عام امریکی عدالتوں میں چلایا جائے گا۔ لیکن اس صورت میں مشکل یہ ہے کہ فوجی کمشنوں کے سا منے پیش کیا جانے والا بہت سا مواد عام عدالتوں میں پیش نہیں کیا جا سکے گا۔
ایران ممکنہ طور پر ایک بہت بڑا بحران ہے۔ لیکن اس کا دارو مدار اس بات پر ہے کہ ایران کرتا کیا ہے۔ اگر یہ یورینیم کی محدود سطح تک افزودگی جاری رکھتا ہے تو نئی انتظامیہ یا تو اس کے خلاف پابندیاں برقرار رکھ سکتی ہے یا پھر ان پابندیوں کو مزید سخت کر سکتی ہے۔
باراک اوباما کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ غیر مشروط بات چیت کے حامی ہیں۔ موجودہ ایرانی قیادت یہ بات واضح کر چکی ہے کہ یورینیم کی افزودگی کا عمل بند نہیں کیا جائے گا۔پس ایران کے ساتھ کوئی ممکنہ معاہدہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ ایران کے محدود پیمانے پر یورینیم کی افزودگی کے حق کو تسلیم کیا جائے اور سخت نگرانی میں ایسا کرنے دیا جائے۔
صدر بش کو امید تھی کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین سمجھوتہ اس سال کے اواخر تک ہو جائے گا۔ لیکن موجودہ حالات میں یہ ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ اب مسٹر باراک اوباما کو اس مشکل کا سامنا ہے کہ وہ بطور صدر کس حد تک مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کے لیے مداخلت کریں۔ اس سلسلے میں پہلا پڑاؤ دس فروری کو ہونے والے اسرائیلی انتخابات ہوں گے جن سے پتا چلے گیا کہ کیا ایسی حکومت موجود میں آتی ہے جو کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر مسئلے کو حل کر سکے۔
جورجیا میں حال ہی میں ہونے والے واقعات نے روس اور مغرب کے تعلقات میں وہ تلخی بھر دی ہے جس کی مثال سرد جنگ کے بعد سے کبھی بھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ اب فوری معاملہ یہ ہے کہ جورجیا اور یوکرائن کو کتنا جلد نیٹو کی رکنیت دے دی جائے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ نیٹو وزرائے خارجہ دسمبر میں ہونے والے اجلاس میں اس پر غور کریں گے اور پسِ پردہ اوباما کی ٹیم کو بھی اس معاملے میں اعتماد میں لیا جائے گا۔ تااہم اب تو بش انتظامیہ بھی یہ کہہ رہی ہے کہ جورجیا کی رکنیت کو کئی سال لگ سکتے ہیں۔ یہ صورتِ حال باراک اوباما کی ٹیم کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ روس کے ساتھ اپنے معاملات درست کرے۔ اسی طرح امریکہ کے اینٹی میزائیل سٹسم کی پولینڈ اور جمہوریہ چیک میں تنصیب اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاملات ہیں جن پر واضح پالیسی امریکہ اور روس کے مابین تعلقات کا رخ متعین کرے گی۔
شمالی کوریا کی طرف سے اٹھائے جانے والے حالیہ اقدامات مثبت تھے۔ لیکن امید یہ ہے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیاروں سے دست بردار نہیں ہو گا۔ اس نئے صدر کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا شمالی کو ریا کو اپنے جوہری ہتھیاروں سے دست بردار کیا جا سکتا یا نہیں۔ اور دوسری بات یہ کے اس سلسلے میں بات چیت کس سے کی جائے۔ کیا کِم جونگ اِل اس کام کے لیے موزوں ہیں۔
امریکہ کے چین سے تعلقات بہت اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ایک طرف چین سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے جبکہ دوسری طرف دنیا بھر میں اس کا بہت معاشی اثر و رسوخ بھی ہے۔ چین بجائے خود امریکہ کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تاہم تائیوان کے مستقبل پر دونوں ملکوں میں اختلافِ رائے ہو سکتا ہے۔ او ساتھ ساتھ تبت میں انسانی حقوق کی پامالی کا بھی معاملہ سب کے سامنے ہے۔
فنانس، کلائمنٹ چینج اور توانائی کے معاملات کو ’نیو ڈپلومیسی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ان معاملات پر باراک اوباما کی پالیسی سے امریکی اخلاقی برتری کی راہ ہموار ہو گی۔ |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||