مالیاتی بحران پر فوری توجہ: اوباما | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
باراک اوباما نے کہا ہے کہ وہ عہدہِ صدارت سنبھالنے کے فوراً بعد مالیاتی بحران کے حل پر توجہ دیں گے۔ نومنتخب صدر نے کہا ہے کہ جنوری میں عہدہ سنبھالنے پر ان کی محاذ آرائی معاشی بحران سے ہوگی اور یہ ٹکراؤ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہوگا۔ چار نومبر کے انتخابات میں صدر منتخب ہونے کے بعد صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندگان سے اپنی پہلی ملاقات میں باراک اوباما نے کہا کہ طویل عرصے سے بیداری اور تحریک پیدا کردینے والے منصوبے کی ضرورت تھی اور یہی ان کی پہلی ترجیح ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا کام ہوگا جو وہ صدر کی حیثیت سے انجام دیں گے۔ انتخابات میں اپنی کامیابی کے بعد ذرائع ابلاغ سے اپنی پہلی ہی ملاقات میں نومتخب امریکی صدر باراک اوباما الفاظ کے چناؤ میں خاصے محتاط رہے اور موجودہ حکومت کی مدت کے ختم ہونے تک کے وقت کے بارے میں کچھ کہے بغیر ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں ایک وقت میں ایک ہی صدر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ عہدہ سنبھالیں گے تو ان کی توجہ ملازمتوں پر مرکوز ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملازمتوں کے خاتمے سے صارفین کی اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے اور وہ چھوٹے کاروباروں اور مقامی حکومتوں کی مدد کریں گے تاکہ نہ تو ملازمین کو فارغ کرنا پڑے اور نہ ہی ٹیکس بڑھانے کی ضرورت پڑے۔ نو منتخب صدر باراک اوباما کا یہ موقف ایک ایسے وقت سامنے آرہا ہے جب امریکہ میں جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق بیروزگاری میں سطح میں اضافہ ہورہا ہے۔ اعداد و شمار کہتے ہیں کہ امریکہ میں بیروزگاری کی سطح چھ اعشاریہ پانچ فیصد ہوگئی ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر میں دو لاکھ چالیس ہزار افراد بیروزگار ہوئے اور بارہ مہینوں میں اٹھائیس لاکھ لوگ ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اب بیکار لوگوں کی تعداد ایک کروڑ تک جاپہنچی ہے اور اس خدشے نے زور پکڑ لیا ہے کہ ملک ایک سنگین نوعیت کی کساد بازاری کی جانب بڑھ رہا ہے۔ خود باراک اوباما نے اس بات کو انتہائی سنجیدہ قرار دیا کہ قریباً ایک کروڑ امریکی بیکار ہوچکے ہیں۔ ’آج صبح تو ہم اپنی معیشت کے بارے میں اس زیادہ سنجیدہ نوعیت کی خبر کے ساتھ سو کر اٹھے۔ دراصل ہمیں اس برس بارہ لاکھ ملازمین کو فارغ کرنا پڑا اور اب ایک کروڑ سے زائد امریکی بیروزگار ہیں۔ کروڑوں خاندان اپنے اخراجات کی ادائیگی کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ ان خاندانوں کی مصیبتوں کی داستانیں ہمیں یاد دلا رہی ہیں کہ ہم اپنے وقت کی عظیم ترین مشکلات کا سامنا کررہے ہیں اور ہمیں اسے حل کرنے کے لئے تیزی سے کام کرنا ہوگا۔‘ ادھر امریکہ میں گاڑیاں بنانے کی صنعت کے دو بڑے اداروں نے بھی خاصے سنگین نتائج پیش کئے ہیں۔ جنرل موٹرز کا کہنا ہے کہ سال کی تیسری سہ ماہی میں ڈھائی ارب ڈالر کا نقصان ہوا جبکہ فورڈ نے نقصان کا تخمینہ تین ارب ڈالر بتایا ہے۔ اگرچہ باراک اوباما نے معاشی معاملات پر توجہ کے بارے میں کہا کہ وہی ان کی پہلی ترجیح ہوگی مگر ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ وہ دیگر معاملات کے لیے کئے جانے والے اپنے وعدے بھی ہرگز فراموش نہیں کریں گے۔ لیکن خارجہ معاملات کے بارے میں انہوں نے صرف ایران اور اس کے جوہری امور و عزائم کا تذکرہ کیا۔انہوں نے ایران کے جوہری معاملات کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ ایران کو دہشت گرد تنظیموں کی حمایت بند کردینی چاہیے۔ باراک اوباما نے کہا کہ ایران کا جوہری ہتھیار بنالینا میرا خیال ہے کہ ناقابل قبول ہے اور ہمیں اسے روکنے کے لیے ایک بین الاقوامی کوشش کرنا ہوگی۔ دہشت گرد تنظیموں کے لئے ایران کی حمایت میرا خیال ہے کہ ایسی چیز ہے جو رک جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی جانب سے اپنی انتخابی کامیابی پر لکھے جانے والے خط کا جائزہ لیں گے اور ان کا مناسب جواب بھی دیں گے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس کے لئے انہیں وقت درکار ہوگا۔ اس سے پہلے امریکہ کے نو منتخب صدر باراک اوباما مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے حمکت عملی پر غور کرنے کے لیے اقتصادی امور کے اپنے مشیروں سے ملاقات کی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ غیر یقینی کی موجودہ صورتحال میں وال سٹریٹ کو یقین دہانی اور اعتماد سازی کی اشد ضرورت ہے۔ پچھلے دو روز میں حصص کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ ہوئی ہے جس کے نتیجے میں امریکی کمپنیوں کی قیمت میں تقریباً دس فیصد کمی ہوئی ہے۔ جمعے کے روز ہونے والے اجلاس میں مرکزی بینک کے سابق سربراہ پال وولکر اور کابینہ کے سابق اہلکاروں کے علاوہ کئی بڑی کپمنیوں کے اہلکار بھی شریک ہوئے۔ ارب پتی سرمایا کار وارین بفٹ بھی فون کے ذریعے اس میں شریک ہونگے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب کا کہنا ہے کہ نومنتخب صدر پر نئے وزیر خزانہ نامزد کرنے کا خاصا دباؤ ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہ اس عہدے کے لیے پال وولکر کے علاوہ نیو یارک فیڈرل ریزیرو بینک کے صدر ٹموتھی گائٹنر اور کلنٹن دور کے دو وزرائے خزانہ لیری سومرز اور رابرٹ روبن کے ناموں پر غور کر رہے ہیں۔ جمعہ کو باراک اوباما نے نو عالمی رہنماؤں سے فون پر بات کی۔ ان میں برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن، فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی اور جرمنی کی چانسلر اینگلا میرکل شامل ہیں۔ اطلاعت کے مطابق عالمی مالیاتی بحران اور اس سے نمٹنے کے ممکنے طریقہ کار پر بات ہوئی۔ پندرہ نومبر کو واشنگٹن میں جی ٹیوینٹی تنظیم کا سربراہی اجلاس شروع ہو رہا ہے، تاہم یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ امریکہ کے نو منتخب صدر اس میں شریک ہونگے یا نہیں۔ |
اسی بارے میں بش اوبامہ ملاقات آئندہ پیر کو07 November, 2008 | صفحۂ اول حکومت سازی کا عمل شروع06 November, 2008 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||