سی آئی اے: پروازیں اتری تھیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک رسالے کے مطابق جرمنی کی حکومت کے پاس کم از کم 437 ایسی پروازوں کی فہرست موجود ہے جو کہ مشتبہ طور پر سی آئی اے کے زیر استعمال تھیں۔ ہفتہ وار جرمن رسالے ’ڈیر سپیگل‘ کا کہنا ہے کہ اس لسٹ میں دو طیاروں کے137 اور 146 مرتبہ جرمنی میں اترنے یا اس کی فضائی حدود میں داخل ہونے کا ریکارڈ بھی شامل ہے۔ یہ ریکارڈ سن دوہزار تین اور دو ہزار چار کے درمیانی عرصے کا ہے۔ رسالے کے مطابق ممکن ہے کہ ان پروازوں میں مشتبہ دہشتگردوں کو خفیہ مقامات پر منتقل کیا گیا ہو۔ خیال کیا جاتا ہے کہ پیر کو امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس کے جرمنی کے دورے پر ان پروازوں کا معاملہ اٹھایا جایا گا۔ واضح رہے کہ چند دن قبل کونڈولیزا رائس کہہ چکی ہیں کہ وہ یورپی یونین کے اس خط کا جواب دیں گی جس میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے نے بیرون ممالک خاص طور پر مشرقی یورپ میں خفیہ قید خانے بنائے ہوئے ہیں۔ ایک مضمون جو کہ ڈیرسپیگل کی پیر کی اشاعت میں شائع ہوگا میں کہا جا رہا ہے کہ جرمنی کے ائر ٹریفک کنٹرولرز نے مذکورہ فہرست لیفٹ پارٹی کی درخواست پر مہیا کی ہے۔ پروازوں کی فہرست کے مطابق یہ جہاز برلن، فرینکفرٹ اور جرمنی میں ریمسٹن کے امریکی اڈے پر اترے تھے تاہم برلن میں بی بی سی کی نامہ نگار ٹرسٹانہ مُور کے مطابق پروازوں کی فہرستوں سے یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ ان جہازوں پر کیا تھا۔ جرمن حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ائر ٹریفک کی فہرستوں سے صرف اتنا پتا چلتا ہے کہ کس کمپنی کے جہاز کتنی مرتبہ ملک کی فضائی حدود میں آئے یا کسی جگہ اترے۔ نامہ نگار نے مزید کہا کہ اس فہرست کا اس وقت منظرعام پر آنا کونڈلیزا رائس کی بد قسمتی ہے کیونکہ وہ اگلے ہفتے جرمنی کی نئی چانسلر اینجلا مرکل سے ملاقات کر رہی ہیں۔ دوسری طرف جرمنی کے وزیرخارجہ گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں امریکی انتظامیہ کے افسران سے اپنی بات چیت میں سی آئی اے کی خفیہ پروازوں پر اپنی پریشانی کا اظہار کر چکے ہیں۔ | اسی بارے میں سی آئی اے: یورپی پارلیمنٹ کا غصہ02 December, 2005 | آس پاس خفیہ جیلیں: امریکہ تحقیق کرے گا29 November, 2005 | آس پاس صدام دور جیسا حال ہے: علاوی27 November, 2005 | آس پاس تشدد ہوا پر اتنا نہیں: عراقی وزیر17 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||