کیا 1965 کی جنگ ضروری تھی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چالیس سال گزرنے کے بعد اب بھی جب میں سن پینسٹھ کی جنگ کے ان دنوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو اسی نتیجہ پر پہنچتا ہوں کہ یہ جنگ قطعی غیرضروری، بے معنی لاحاصل تھی جس سے گریز بہت آسان تھا اگر دونوں ملکوں کی قیادت بصیرت سے کام لیتی اور حالات کی یرغمالی نہ بن جاتی۔ کیونکہ سن پینسٹھ کی جنگ سے صرف اٹھارہ مہینے قبل ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کے افق پر اچانک نہایت جو خوشگوار تبدیلی آئی تھی اور امیدوں کی دھنک ابھری تھی جب طویل تیس برس کے تعطل کے بعد مسئلہ کشمیر کے تصفیہ کے امکانات روشن ہوئے تھے۔ گو سن تریسٹھ میں مسئلہ کشمیر پر بھٹو سورن سنگھ مذاکرات ناکام رہے تھے لیکن ان مذاکرات میں پہلی بار پاکستان نے استصواب رائے شماری کے علاوہ تصفیہ کے لیے دوسرے حل تلاش کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی اور جنگ بندی لائین میں ردوبدل کی بنیاد پر کشمیر کی تقسیم کی تجویز بھی پیش کی تھی۔ امریکا کے محکمہ خارجہ کی ستائیس جنوری سن چونسٹھ کی یادداشت میں اس کی تصدیق کی گئی تھی کہ ’سن تریسٹھ کے دو طرفہ مذاکرات میں پاکستان نے استصواب رائے کے علاوہ دوسری تجاویز پر غور کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی اور ہندوستان نے کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کیا تھا اور علاقائی ردوبدل پر آمادگی ظاہر کی تھی‘۔ اسی پس منظر میں ہندوستان کے وزیراعظم نہرو نے آٹھ اپریل سن چونسٹھ کو شیخ عبداللہ کو طویل نظر بندی کے بعد رہا کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس فیصلہ کے دفاع میں انہوں نے لوک سبھا میں کہا تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے تصفیہ کے لیے پاکستان کے ساتھ آئینی تبدیلوں کے خواہاں ہیں۔ گو انہوں نے ان آئینی تبدیلیوں کی وضاحت نہیں کی تھی لیکن یہ قیاس کیا جاتا تھا کہ وہ ہندوستان پاکستان اور کشمیر کا ڈھیلا ڈھالا کنفیڈریشن چاہتے تھے یا کشمیر کے کچھ علاقوں کو مشترکہ کنٹرول میں رکھنا چاہتے تھے۔
تاہم یہ حقیقت ہے کہ شیخ عبداللہ نہرو کی آشیرباد کے ساتھ پاکستان گئے تھے جہاں انہوں نے ایوب خان سے نہرو کے ساتھ سربراہ مذاکرات کے امکان پر بات کی تھی لیکن اسی دورے میں دلی سے نہرو کے انتقال کی خبر آئی اور شیخ عبداللہ کو ہندوستان واپس جانا پڑا۔ بلاشبہ نہرو کے جانشین لال بہادر شاستری نہرو کے انداز فکر کے مطابق کشمیر کے تصفیہ کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے خواہاں تھے اور اسی مقصد سے انہوں نے ستمبر سن چونسٹھ کے اوائل میں جے پرکاش نارائین کی قیادت میں ایک وفد پاکستان بھیجا تھا۔ پھر اسی پس منظر میں لال بہادر شاستری نے بارہ اکتوبر سن چونسٹھ کو کراچی کے ہوائی اڈے پر ایوب خان سے ملاقات کی تھی۔ چونکہ چند ماہ بعد پاکستان میں صدارتی انتخاب ہونے والے تھے لہذا اس ملاقات میں لال بہادر شاستری نے صدارتی انتخاب کے بعد کشمیر کے تصفیہ کے لیےمذاکرات کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن حالات نے اس وقت پلٹا کھایا جب ہندوستان میں وزیر داخلہ گلزاری لال نندہ اور حزب مخالف جن سنگھ نے لال بہادر شاستری پر اس قدر سخت دباؤ ڈالا کہ وہ کشمیر کو ہندوستان میں مزید مدغم کرنے کے لیے آئین میں ترمیمات پر مجبور ہو گئے جن کے تحت ریاستی اسمبلی کو صدر ریاست کے انتخاب کے حق سے محروم کر کے دلی کو گورنر کی تقرری کا حق دے دیا گیا اور لوک سبھا میں پہلی بار کشمیر کی چار نشستیں مخصوص کی گئیں۔ دوسری طرف ذوالفقار علی بھٹو اور عزیز احمد نے رن آف کچھ کے معرکہ میں پاکستان کی جیت کے بعد آپریشن جبرالٹر کا ایسا جال پھیلایا کہ ایوب خان بے دست و پا رہ گئے۔ ائر مارشل اصغر خان نے سن پینسٹھ کی جنگ کے بارے میں اپنی کتاب ’دی فرسٹ راؤنڈ انڈو پاک وار سکسٹی فائیو‘ میں، اس زمانہ کے فضائیہ کے سربراہ ائرمارشل نور خان نے ڈیلی نیوز اور جنگ کے ایک انٹرویو میں اور خود آپریشن جبرالٹر میں شامل بریگیڈیر فاروق اور کرنل غفار مہدی سب نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس آپریشن کی منصوبہ بندی میں بہت سقم تھا اور جب ایوب خان نے خطرہ ظاہر کیا تھا کہ اس آپریشن کے نتیجہ میں دونوں ملکوں میں بھر پور جنگ بھڑک سکتی ہے تو بھٹو اور عزیز احمد نے یہ کہا تھا کہ امریکیوں نے انہیں یقین دلایا ہے کہ ہندوستان بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ اگر کوئی ایسی یقین دہانی تھی تو وہ چھ ستمبر کو درست ثابت نہیں ہوئی۔ بہرحال اس زمانہ میں دونوں ملکوں میں ایسے عناصر طاقت ور اور باثر ثابت ہوئے جو برصغیر کو معرکہ آرائی اور جنگ کی آگ میں دھکیلنے پر تلے ہوئے تھے اور اسی وجہ سے حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ دونوں ملک تیزی سے بھرپور جنگ میں کود پڑے جس نے بہت جلد بر صغیر کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||