BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 July, 2005, 19:22 GMT 00:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حملہ آور پاکستانی نہیں، برطانوی تھے

 صدر مشرف
صدر مشرف نے انتہا پسند تنظیموں کے چندہ جمع کرنے پر کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
صدر جنرل مشرف کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں خود کش حملہ کرنے والوں کا تعلق پاکستان سے جوڑنا درست نہیں ہے اور ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ الزام تراشی کے بجائے پاکستان اور برطانیہ کو مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

اس کے علاوہ صدر نے مدارس کو اس سال دسمبر تک رجسٹریشن کرنے کی ڈیڈلائن بھی دی ہے اور کالعدم مذہبی تنظیموں کے خلاف پابندیوں کا اعادہ بھی کیا ہے۔
صدر جنرل پرویز مشرف نے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر پر زور دیا کہ وہ پہلے برطانیہ میں مذہبی انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے کام کریں۔ صدر مشرف نے کہا کہ انھیں اس بات پر تشویش ہے کہ ذرائع ابلاغ میں پاکستان پر انگلیاں اٹھائی جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی پاکستان کی اندرونی سلامتی کے لیے خطرہ ہے جس کو تمام پاکستانیوں کو مل کر دور کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر باعث افسوس ہے کہ دنیا بھر میں جہاں بھی دہشت گردی ہوتی ہے وہاں بلا واسطہ یا بالواسطہ پاکستان کا نام ضرور آتا ہے۔
صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ لندن بم دھماکوں میں ملوث خود کش حملہ آور برطانوی شہری تھے جن کی پیدائش، تعلیم اور پرورش برطانیہ میں ہوئی۔
جنرل مشرف نے کہا کہ برطانیہ میں حزب التحریر اور المہاجرون جیسی انتہا پسند مذہبی تنظیمیں موجود ہیں جو بغیر پابندی کے کام کر رہی ہیں اور جنہوں نے ان کے خلاف فتوے بھی جاری کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت باہمی تعاون کی ضرورت ہے نا کہ الزام تراشی کی۔
صدر نے پاکستان میں کالعدم مذہبی تنظیموں کے خلاف چند انتظامی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر کوئی کالعدم تنظیم کسی نئے نام سے سامنے آتی ہے یا کسی دوسری تنظیم میں ضم ہوتی ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
بغیر لائسنس کے ہتھیار رکھنے والے یا ہتھیار کی نمائش کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
صدر مشرف نے اعلان کیا کہ مسجدوں سے نفرتوں کے خطبات دینے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔
صدر مشرف نے ان مدارس کا انتظام کرنے والوں سے جنہوں نے ابھی تک اپنے مدارس رجسٹر نہیں کراوئے آخری اپیل کی کہ وہ دسمبر دو ہزار پانچ تک مداراس کو رجسٹر کرا لیں۔ اس کے علاوہ نفرت پھیلانے، تشدد پر اکسانے، اس طرح کے رسائل اور جرائد، اخبار، آڈیو یا وڈیو ٹیپ ریکارڈ کرانے، رکھنے، بانٹنے، لکھنے والے کے خلاف بھی سخت کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ انتہا پسند تنظیموں یا کالعدم تنظیموں کے لیےچندہ جمع کرنے والے کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ انہوں نے پاکستنی قوم کو مخاطب کر کے کہا کہ معاشرے میں نفرت پھیلانے والوں اور انتہا پسندوں کے خلاف جہاد کی ضرورت ہے۔
صدر نے اپنے خطاب میں کالعدم تنظیموں اور مدارس کے خلاف اپنا لب و لہجہ ماضی کے برعکس اتنا سخت نہیں رکھا جیسا کے ان سے توقع کی جا رہی تھی اور نہ ہی ان کے خطاب میں اس ہفتے مذہبی تنظیموں کے خلاف کیےگئے کریک ڈاؤن کی خاص تفصیلات تھیں۔
صدر مشرف نے اپنی تقریر میں بھارت کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تمام دیرینہ مسائل بشمول کشمیر کو حل کرلیا جائے گا۔
صدر نے اپنی تقریر میں معاشی مسائل اور بینالصوبائی ہم آہنگی پر بھی زور دیا اور ایک دفعہ پھر کالا باغ ڈیم کی حمایت کی۔
انہوں نے روشن خیال اعتدال پسندی پر زور دیا اور کہا کہ مسلم امہ کو پستی سے بلندی کی طرف جانے کے لیے اس اعتدال پسندی کی راہ کو اپنانا ہو گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد