لبنان: ’شام مخالف اتحاد کامیاب‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان میں انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد سوریا(شام) مخالف اتحاد نے تمام نشستوں پر کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ لبنان میں ایک طویل عرصے کے بعد سوریا کی فوجوں کی عدم موجودگی میں انتخابات ہو رہے ہیں۔ سرکاری نتائج کا اعلان پیر کو ہوگا۔ لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق الحریری (جنہیں کچھ عرصہ پہلے ہلاک کر دیا گیا تھا) کے بیٹے سعد الحریری نے کہا کہ ان کے حامیوں نے دارالحکومت بیروت میں تمام نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ بیروت کے ان انتخابات کا نتیجہ درحقیقت پہلے سے ہی طے تھا کیونکہ سعد الحریری کا اتحاد پولنگ کے آغاز سے بھی پہلے انیس میں سے نو نشستیں بلامقابلہ حاصل کر چکا تھا۔ جبکہ باقی نشتوں کے بارے میں بھی توقع یہ ہی ہے کہ وہ بھی اسی اتحاد کو ملیں گی۔ ایسے میں اصل توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ رائے دہندگان کی کتنی بڑی تعداد پولنگ میں شریک ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ ہی ایک کسوٹی ہوگی جس سے نئی پارلیمنٹ کی ساکھ اور مقبولیت کو پرکھا جائے گا۔ پولنگ بند ہونے سے پہلے ایسا نظر آ رہا تھا کہ جیسے رائے دہندگان کی قدرے کم تعداد نے پولنگ سٹیشنوں کا رخ کیا ہے۔ یہ کمی عیسائی آبادی والے حصوں میں زیادہ نمایاں تھی۔ بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ اس لیے ووٹ نہیں ڈالیں گے کہ نتیجہ تو پہلے سے معلوم ہے۔ جبکہ کئی لوگ اس بات سے نالاں نظر آئے کہ انتخابات میں بھی وہ ہی سیاسی گروہ اور دھڑے چھائے ہوئے ہیں جو ملکی سیاست پر کئی دہائیوں سے مسلط ہیں۔ اگر رائے دہندگان کی تعداد واقعی کم رہتی ہے تو یہ ایک شخص کے لیے ضرور مسرت کا باعث ہوگی اور وہ ہیں سابق جنرل میشل آؤن جنہوں نے اسّی کے اواخر میں شام کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا تھا۔ اگرچہ وہ حزب اختلاف کے کسی دھڑے سے اتحاد کرنے میں ناکام رہے تاہم انہوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ ان کی سیاست قوت کا پتہ الیکشن کے اگلے مراحل میں چلے گا جب وہ پہاڑی حصے اور شمال میں ہونے والے انتخابات میں اپنے امیدوار کھڑے کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||