عیسائی رہنما کی واپسی پر دھماکے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کے جلا وطن عیسائی رہنماء مائیکل عون چودہ سال بعد فرانس سے اپنے وطن پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے واپسی کا فیصلہ بیروت کی ایک عدالت کی طرف سے ان کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ ختم کیے جانے کے بعد کیا۔ لیکن ان کی آمد سے ذرا پہلے لبنان میں بم کے ایک حملے میں ایک شخص ہلاک گیا ہے۔ اس سے قبل مارچ میں بھی ایک بم حملے میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ سیکیورٹی اداروں کے حکام مائیکل عون کی آمد سے پہلے اس دھماکے کو خاصی تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ مائیکل عون نے لبنان میں خانہ جنگی کے دوران ایک عبوری حکومت بھی قائم کی تھی۔ انہوں نے لبنان سے شام کی فوجیں نکالنے کی ناکام کوشش کی۔ انہوں نے انیس سو نوے میں جلا وطنی کی زندگی اپنائی اور یورپ چلے گئے۔ گزشتہ پندرہ برسوں سے ان کے حامی بیروت کی دیواروں کو اس نعرے سے رنگین کرتے رہے ہیں کہ عون واپس آئیں گے۔ اب اپنی واپسی کے موقع پر اس دھماکے پر اپنے ردعمل میں انہوں نے کہا ’یہ بم حملے بیکار ہیں اور ان کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ تاریخ لکھ دی گئی ہےاور اس دور کی تاریخ پر کسی چیز کا اثر نہیں ہوگا۔ ہم لبنانیوں نے بہت دکھ دیکھے ہیں، ہم اس کے عادی ہیں لیکن پھر بھی زندہ ہیں۔ زندگی کے لیے ہماری خواہش موت کی کمزوری سے کہیں زیادہ مضبوط ہے‘۔ مائیکل عون کو ائیرپورٹ سے بیروت کے شہداء چوک پر جلسہ کے لیے لے جایا جائے گا۔ اسی مقام پر ہزارہا لبنانی گزشتہ مہینوں میں سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل اور ملک سے شامی فوجوں کی واپسی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ دس روز پہلے تمام شامی فوج لبنان سے واپس جا چکی ہے۔ ایک فرانسیسی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے عون نے انتخابات میں حصہ لینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ لبنان میں اس ماہ کے آخر میں پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں۔ لبنان کی عیسائی آبادی کو امید ہے کہ مائیکل عون کی واپسی سے ان کے خیال میں ملک کی سیاست میں عیسائیوں کے استحصال کا دور ختم ہوجائے گا۔ شام کی فوجیں حال ہی میں لبنان سے واپس گئی ہیں۔ فروری میں لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے بعد وہاں شام کی فوجوں کے انخلاء کے لیے زبردست مظاہرے ہوئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||