بلوچستان،2 لڑکیوں کی لاشیں برآمد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر دالبندین میں آج علی الصبح چوک پر دو لڑکیوں کی برہنہ لاشیں ملی ہیں جنھیں تشدد کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد دالبندین اور قریبی علاقوں میں مقامی لوگوں نے زبردست احتجاج کیا اور ٹائر جلا کر روڈ بلا ک کر دیے ۔ دالبندین سے پولیس نے بتایا ہے کہ لوگ جب صبح کی نماز ادا کرکے واپس آرہے تھے تو انھوں نے دو لاشیں دیکھیں جنہیں لوگوں نے چادروں سے ڈھانپ دیا۔ لڑکیوں کی عمریں چودہ اور پندرہ سال بتائی گئی ہیں اور ان میں سے ایک کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی۔ دالبندین ہسپتال میں موجود لیڈی ڈاکٹر صباحت نے بتایا ہے کہ لڑکیوں کے گلے کو تیز دھار والے آلے سے کاٹا گیا تھا۔ان کے سر کے بال اور بھنویں مونڈھ دی گئی تھیں جبکہ ایک لڑکی کی گردن سے نیچے بھی زخم کے کے نشان موجود تھے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ تاحال لڑکیوں کی شناخت نہیں ہو سکی تاہم انھوں نے کہا کہ پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔ ادھر اس واقعہ کے خلاف لوگوں نے زبردست احتجاج کیا ہے ۔ بلوچ قوم پرست جماعتوں کے مقامی قایدین نے کہا ہے کہ یہ واقعہ لوگوں کو مشتعل کرنے اور صوبے کے حالات کو خراب کرنے کے لیے گیا ہے۔ مقامی صحافیوں نے کہا ہے کہ دالبندین شہر میں جلوس نکالا گیا ہے اور دکانیں اور کاروباری مراکز بند رکھے گئے ہیں۔ سیاسی قائدین نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||