شیعہ مسجد میں دھماکہ: 14 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں عید کے روز شیعہ مسلمانوں کی ایک مسجد میں دھماکے سے چودہ افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے ہیں۔ عراقی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ کار بم کے ذریعے کیا گیا اور دہشت گردوں کا نشانہ بغداد کے جنوب مغرب میں واقع شیعہ مسلمانوں کی ایک مسجد تھی جب یہ دھماکہ ہوا تو عبادت گزار عیدِ قربان کی رسومات کی ادائیگی کے بعد مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔ یہ دھماکہ شدت پسند ابو مصعب الزرقاوی کے اس بیان کے بعد ہوا ہے جس میں انہوں نے شیعہ مسلمانوں کی یہ کہہ کر مذمت کی تھی کہ وہ امریکی فوجیوں کے ساتھ مل کر عراقیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکے کے بعد زخمی عورتوں اور بچوں کو فوری طور پر ہسپتال روانہ کر دیا گیا۔ نمازِ سحر کے بعد ہونے والے اس دھماکے کے نتیجے میں مسجد کے باہر کھڑی کئی گاڑیاں جل گئیں۔ ایک ہفتے میں بغداد میں شیعہ مسلمانوں کی مسجد میں یہ دوسرا دھماکہ ہوا ہے۔ اس سے قبل بدھ کے روز بھی ایک شیعہ مسجد میں دھماکہ ہوا تھا لیکن اس میں انسانی جانوں کا ضیاع نہیں ہوا تھا۔ تیس جنوری کو عراق میں امریکی سرپرستی میں عام انتخابات ہو رہے ہیں لیکن ان سے قبل عراق میں شیعہ مسلمانوں پر دھماکوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ادھر شیعہ مسلمانوں کے رہنما آیت اللہ علی سیستانی نے اپنے مقلدین پر زور دیا ہے کہ وہ جنوری کے آخر میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لیں۔ تاہم بعض سنی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||