شوکت عزیز، نٹور سنگھ ملاقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیرِ اعظم شوکت عزیز بھارت کے پہلے سرکاری دورے پر نئی دلی میں ہیں اور بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے ان سے ملاقات کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ ملاقات پینتالیس منٹ تک جاری رہی تاہم اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ اس کی تفصیلات بھارتی دفترِ خارجہ کی بریفنگ میں جاری کی جائیں گی اور یہ بریفنگ شروع ہو چکی ہے۔ پاکستانی وزیراعظم کے دورۂ بھارت کو موجودہ حالات کے تناظر میں اہمیت کا حامل تصور کیا جا رہا ہے۔ شوکت عزیز سابق وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی سے بھی ملیں گے اور منگل کی شام وہ علیحدگی پسند اتحاد کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے کشمیر کے مسئلے پر بھی تبادلۂ خیال کریں گے۔مبصرین کہتے ہیں کہ اس ملاقات سے یقیناً بھارتی حکومت خوش نہیں ہوگی۔ شوکت عزیز جو اقتصادی روابط کے فروغ کے لیے جنوبی ایشیائی ملکوں کے دورے پر ہیں، بھارتی قیادت سے بات چیت کے سلسلے کا آغاز وزیرِ خارجہ نٹور سنگھ سے ملاقات سے کریں گے۔ دلی میں بی بی سی کے نامہ نگار نگیندر شرما نے بتایا ہے کہ شوکت عزیز، بھارت کو اگلے سال جنوری میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت کی باضابطہ دعوت دیں گے۔ سارک کی صدارت آج کل پاکستان کے پاس ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ اگرچہ وزیرِ اعظم شوکت عزیز بظاہر سارک کانفرنس کا دعوت نامہ لے کر بھارت آئیں ہیں لیکن دونوں ملکوں کے درمیان کچھ عرصے سے تعلقات کی بحالی کے تناظر میں یہ توقع ہے کہ بھارتی قیادت سے ملاقاتوں کے دوران ’دیگر معاملات‘ پر بھی گفتگو ہو سکتی ہے۔ پاکستانی وزیرِ اعظم نے حال ہی میں اپنے بھارتی ہم منصب منموہن سنگھ کو جو خود ان کی طرح معاشیات کے ماہر ہیں، اپنا گرُو کہا ہے۔ دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات بدھ کو ہونے کی توقع ہے۔ اسلام آباد میں بھارت کے سابق ہائی کمشنر جی پارتھا سارتی کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم شوکت عزیز کشمیر کے مسئلے پر اس موقف سے ہٹ کر کچھ نہیں کہہ سکیں گے جس کا اظہار پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے وقتاً فوقتاً کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ غیر رسمی سطح پر اس مسئلے کے حوالے سے کچھ پیش رفت ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔ ’کشمیر کے مسئلے پر ان سے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اب ایسے قدم اٹھائے جن سے کشمیر کے عوام کو فائدہ پہنچے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||