جشن کی تیاریاں، نتیجے کاانتظار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امیدواروں کی طرف سے جشن کی تیاریوں، ٹی وی پر بڑھتے گھٹتے اعداد و شمار اور نہ ختم ہونے والے تبصروں کے درمیان امریکہ انتظار کر رہا ہے کہ الیکشن کا یہ سرکس اب کب اپنے اختتام کو پہنچے گا۔ ایک طرف واشنگٹن ڈی سی میں صدر بش کی وکٹری ریلی کی تیاریاں ہیں اور دوسری طرف یہاں بوسٹن کے کوپلی سکوائر میں جان کیری کے حامیوں کی طرف سے پہلے ہی شروع ہوجانے والےجشن کے بیچ، امریکہ کے ٹی وی چینلز ہر ریاست کے ایک ایک حلقے سے ملنے والی ایک ایک نتیجے کو جس سسپنس اور جوش و خروش سے پیش کررہے ہیں، وہ یقیننا غیر معمولی ہے۔ اور ہو بھی کیوں نہ امریکہ کی الیکشن تاریخ میں اتنا شدید مقابلہ شائد پہلے کبھی بھی نہیں ہوا جس میں ایک طرف کولوراڈو کی ریاست میں سخت طوفان اور سردی میں ریکارڈ تعداد میں لوگ ووٹ ڈالنے پہنچے ہیں تو دوسری طرف فلوریڈا میں آج غیر معمولی گرمی میں بھی ووٹر ٹرن آؤٹ حیرت انگیز حد تک زیادہ ہے۔ میڈیا کی غیر معمولی دلچسپی اپنی جگہ پر لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس مرتبہ امریکی عوام نے اپنی رائے کا اظہار کرنے میں جس عزم کا اعادہ کیا ہے وہ متاثر کن ہے۔ پچھلے مرتبہ کے بالکل برعکس امریکی میڈیا جو رائے عامہ کے جائزوں اور ابتدائی تخمینوں کے لئے مشہور ہے، اس مرتبہ بہت محتاط ہے۔ ملک کے کئی بڑے نیٹ ورکس نے جس میں اے بی سی اور سی این این بھی شامل ہیں مل کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس وقت کسی بھی ریاست کے بارے میں ابتدائی اندازے جاری نہیں کریں گے جب تک متعلقہ ریاست میں ووٹنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوجاتی۔ لیکن امریکی چینلوں پر بے شمار اور مسلسل بدلتے ان اعداد و شمار کے بیچ مبصرین اور تبصرہ نگاروں کی ایک فوج بھی بیٹھی ہے جو اس پر بھی تبصرہ کرسکتی ہے کہ آج صبح جان کیری نے کیا کھایا اور وہ کس طرح ان کی جیت یا ہار پر اثر انداز ہوسکتا ہے یا یہ کہ صدر بش کے سوٹ پر نظر آنے والی شکن کیا ان میں اعتماد کی کمی کو تو ظاہر نہیں کرتی۔ انفارمیشن کی اس بوچھاڑ کے درمیان امریکی اب اپنے اگلے رہنما کی قسمت کا فیصلہ بیلٹ بکسوں میں بند کرنے کے بعد اپنی ٹی وی سکرینوں سے چپکے بیٹھے ہیں لیکن لگتا یہی ہے کہ اگلے چند گھنٹوں میں واضح ہوجائے گا کہ جشن کون منائے گا اور خیر سگالی کی تقریر کی تیاری کون کرے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||