BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 October, 2004, 14:28 GMT 19:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹی وی سکرین سے پولنگ سٹیشن تک

صدر بش
امریکی صدر جارج ڈبلیو بش
ایک ایسے ملک میں جہاں صدارتی الیکشن بالکل ایسے ہی لڑا جاتا ہو جیسے کمپنیاں بازار میں اپنی اپنی پروڈکٹ بیچنے کے لئے سر توڑ کوششیں کرتی ہیں، مشی گن میں ڈیٹروئیٹ کے ائیر پورٹ پر اترتے ہی احساس ہوا کہ یہ الیکشن ہر کسی کے سر پر سوار ہے۔ ائیرپورٹ پر کسٹمز کا ایک اہلکار میرے سامان کو دیکھنے سے زیادہ یہ جاننے میں دلچسپی رکھتا تھا کہ کیا باہر کی دنیا صدر بش سے اتنی ہی نفرت کرتی ہے جتنا کہا جاتا ہے۔ میرے کچھ بھی کہنے سے پہلے اس نے خود ہی کہہ دیا ’شائد یہ درست ہی ہو۔‘

لیکن ائیرپورٹ سے باہر نکلنے کے بعد یہ بھی محسوس ہوا کہ کسٹمز اہلکار تو شائد ہر روز باہر سے آنے والوں سے ملتے ہیں اور بات کر کے اس بات کا کچھ اندازہ کر سکتے ہیں کہ باہر کی دنیا امریکہ کو کیسے دیکھتی ہے لیکن خود امریکہ کے اندر بیٹھے لوگوں کے اندرونی مسائل انہیں زیادہ عزیز ہیں۔

یقیناً گیارہ ستمبر کے حملوں نے امریکیوں کو دنیا کے بارے میں بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے لیکن اب بھی خود امریکہ کے اندرونی مسائل ہی حتمی طور پر لوگوں کو کوئی بھی سیاسی فیصلہ کرنے پر متحرک کر سکتے ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مرتبہ کے صدارتی الیکشن میں امریکہ کے اندرونی مسائل اور بیرونی دنیا کے حالات کا ایک عجیب سا امتزاج پیدا ہو رہا ہے۔

کولوراڈو میں فلو کے ٹیکوں کی کمی بھی اتنا ہی بڑا الیکشن ایشو بن جاتا ہے جتنا بڑا اور اہم عراق میں بیس امریکی فوجیوں کی طرف سے اپنے کمانڈر کا حکم ماننے سے انکار کا مسئلہ ہے۔

امریکہ میں یقیناً الیکشن بخار زوروں پر ہے۔

اس سے قطع نظر کہ جیتے گا کون اور ہار کس کے حصے میں آئے گی، ان الیکشن میں ایک اور اہم ایشو امریکہ کے اُن رجسٹرڈ ووٹروں کو ٹی وی سکرین کے سامنے سے اٹھا کر پولنگ سٹیشن تک لے جانے کا ہے جو دنیا کے سب سے طاقتور سیاسی نظام کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اس سے اتنے مایوس ہیں کہ ووٹ نہیں ڈالتے۔

ایک جائزے کے مطابق امریکہ میں رجسٹرڈ ووٹروں میں سے تقریباً آدھے ووٹ ڈالنے جاتے ہی نہیں اور ان میں زیادہ تعداد باہر سے آ کر یہاں بسے ہوئے اقلیتی امریکیوں کی ہے۔

اب سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ساتھ بہت سی فلاحی تنظیموں یا این جی اوز نے پچھلے کچھ عرصے سے ان ووٹروں کو متحرک کرنے کی ٹھان لی ہے۔ کئی سو مختلف طرح کی این جی اوز تقریباً ڈیڑھ ملین ڈالر کے فنڈز کی مدد سے اس مرتبہ ایسے ووٹروں کو پولنگ سٹیشن جا کر اپنا ووٹ ڈالنے پر مجبور کرنے کے لئے ایک مہم چلا رہی ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ یہ نئے ووٹر دو بڑے امیدواروں سے زیادہ آزاد امیدواروں کی حمایت کر سکتے ہیں۔ جس سے اور کچھ فرق پڑے نہ پڑے یہ تو ثابت ہوگا کہ امریکہ دو پارٹیوں کی ملکیت نہیں اور بیرونی دنیا کو خود امریکہ کے اندر موجود، خواہ کتنی ہی نحیف، متبادل آواز کی موجودگی کا علم ہوگا۔

امریکہ کے مایوس ووٹر پولنگ سٹیشن جائیں یا نہ جائیں لیکن یہ طے ہے کہ براعظم جیسے بڑے اس ملک میں الیکشن کا اکھاڑہ تیار ہے اور مقابلے کا دن جتنا قریب آرہا ہے اتنا ہی سیاسی گرمی بڑھتی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد