تیل کی قیمت میں اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے سربراہ پورنومو یسگیاتورو نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اوپیک اس کے بارے میں کسی اقدام کا فیصلہ اپنے ستمبر میں ہونے والے اجلاس کے بعد کرے گی۔ جمعرات کو نیو یارک میں تیل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ ایشیا کی مارکیٹوں میں بھی یہی رجحان تھا۔ نیو یارک میں تیل کی قیمت اڑتالیس عشاریہ ستر ڈالر فی بیرل تھی۔ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے عراق کی صورتحال تیل کی قیمت میں اضافے کا ایک سبب ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ اور چین میں تیل کی بڑھتی ہوئی مانگ بھی اس کی قیمت پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق تیل کی قیمت میں ابھی مزید اضافہ متوقع ہے جس سے عالمی پیداوار پر منفی اثر پڑے گا۔ کچھ ماہرین کے خیال میں تیل کی قیمت جلد ہی پچاس ڈالر فی بیرل کا حدف چُھو لےگی۔ حال ہی میں اکٹھے کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق چین میں سن دو ہزار چار کے پہلے سات ماہ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تیل کی مانگ میں چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||