’جمالی حکومت کا مستقبل خطرے میں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں مفتی نظام الدین شامزی کے قتل اور مسجد علی رضامیں بم دھماکے کے واقعات پر قومی اخبارات نے حکومت اور انٹیلی جنس ایجنیسوں کی امن و امان قائم رکھنے میں نا کامی پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا کہ کراچی میں بدامنی کو بہانہ بنا کے”نیم جمہوری‘ حکومت کی بساط کو لپیٹ دیا جائے ۔ انگریزی روزنامہ ڈان نے لکھا ہے کہ کراچی میں اس ماہ ہونے والے تشدد کے واقعات کے بعد وہ لوگ جو ”سازشی نظریوں ‘ پر یقین نہیں رکھتے وہ بھی یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کچھ قوتیں ایسی ہیں جو کراچی کا امن تباہ کرنا چاہتی ہیں۔ اردو روزنامہ نوائے وقت نے اپنے اداریہ میں کراچی میں دہشت گردی کو قومی سیاست کے تناطر میں دیکھا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ یہ خبریں گردش کررہی ہیں کہ ”مضبوط اورباوردی صدر‘ وزیراعظم جمالی کی رخصتی کے لیے بے تاب ہیں تاکہ ہمایوں اختر خان، شوکت عزیز ، جہانگیر ترین یا کسی دوسرے کسی اور کو وزیراعظم کا حلف دلوا کر امریکہ او راپنی مرضی کے ایجنڈے پر عملدرآمد کرواسکیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ آج کل ملک میں بدامنی یا دہشت گردی کے جو واقعات ہورہے ہیں وہ علی محمد مہر یا میر ظفراللہ جمالی کی کسی ناقص پالیسی کا نتیجہ نہیں ان لوگوں کے پاس تو اتنا اختیار ہی نہیں کہ وہ کچھ کرنے میں کامیاب میں ہو سکیں۔ اخبار کہتا ہے یہ سب کچھ تو جنرل مشرف کی پانچ سال کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جو ملک و قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انگریزی روزنامہ ڈیلی ٹائمز نے کراچی قتل عام کو فرقہ وارانہ قتل قرارا دیا۔ اور کہا تھا کہ مفتی نظام الدین شامزی کا قتل مئی کے شروع میں کراچی کی شیعہ حیدری مسجد میں اٹھارہ لوگوں کے قتل کے بدلہ میں کیا گیا ہے۔ تاہم اخبار کا کہنا تھا کہ لوگ امریکہ پر الزام لگایں گے۔ انگریزی روزنامہ دی نیشن نے لکھا ہے کہ مفتی نظام الدین شامزئی جامعہ اسلامیہ بنوری کے تیسرے عالم ہیں جنھیں چُن کر قتل کیا گیا ہے اور حکومت نے تحقیقات کرانے کاجو اعلان کیا ہے اس سے شاید ہی کوئی مطمئن ہوسکے گا۔ دی نیشن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کئی طرح کے دہشت گرد من مانی کرتے پھر رہے ہیں۔ ان میں فرقہ وارانہ دہشت گرد بھی ہیں جن کا اب نسل پرست تنظیموں سے تعلق بن گیا ہے اور کراچی میں دو علاقائی نسلی تنظیموں کی لڑائی میں بے شمار لوگ مارے جاچکے ہیں۔ اخبار کے مطابق ہندوستانی تنظیم را کے تربیت یافتہ دہشت گرد بھی ملک میں سرگرم ہیں۔ امریکہ اور یورپ کے مخالف مسلح گروپ بھی امریکی اور یورپی تنصیبات پر حملے کررہے ہیں اور ان میں زیادہ تر پاکستانی مارے جاتے ہیں۔ ڈان کا کہنا ہے کہ ان حالات میں سیاسی جماعتوں کو بھی با مقصد رویہ اختیار کرنا ہوگا کیونکہ ان کی با ربار ہڑتالوں کی کال اور محبت اور برداشت کا پیغام نہ دینے سے بھی ملک میں تشدد کا کلچر پھیلا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||