یرغمالیوں کی رہائی کے لئے آپریشن مکمل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الخبر میں سعودی پولیس نے یرغمالیوں کی رہائی کے لئے شروع کیا گیا بڑا آپریشن مکمل کر لیا ہے اور کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ امریکہ میں سعودی سفیر شہزادہ بندر بن سلطان کا کہنا ہے کہ الخبر کی عمارت میں موجود یرغمالیوں میں سے بعض ہلاک ہو گئے ہیں۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے شہزادہ بندر بن سلطان نے کہا کہ سعودی حکام کو اس وقت کارروائی کرنی پڑی جب شدت پسندوں نے یرغمالیوں کے ساتھ ’بدسلوکی‘ شروع کر دی۔ تاہم عمارت سے مزید تفصیلات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ شہزادہ بندر بن سلطان کے مطابق ایک شدت پسند ہلاک ہو گیا کیونکہ وہ گاڑی میں سوار ہو کر عمارت کے احاطے میں داخل ہونا چاہتا تھا اور عمارت کے گرد پہلے ہی حفاظتی دستے تعینات تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی حکام کے خیال میں بعض حملہ آوروں کا القاعدہ کے ساتھ تعلق ہے۔ اطلاعات کے مطابق پچاس کے قریب کمانڈوز کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اس عمارت کی چھت پر اتارا گیا تھا جہاں شدت پسندوں نے تقریباً پچاس غیر ملکیوں کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ کمانڈوز کو ارد گرد جاری فائرنگ کے بیچ عمارت کی چھت پر اتارا گیا اور خیال ہے کہ یرغمالی عمارت کی آخری منزل پر تھے اور سعودی پولیس اس سے نیچے والی منزلوں کو ممکنہ دھماکہ خیر مواد سے پاک کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ابتدائی تفصیلات کے مطابق شدت پسندوں نے ملک کے مشرق میں واقع الخبر شہر میں تین عمارتوں پر حملہ کیا۔ اس دوران وہاں موجود محافظوں سے فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جس کے نتیجے میں مرنے والوں میں ایک دس سالہ بچے سمیت نو غیرملکی شامل ہیں جبکہ سات محافظ بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ امریکی سفارتخانے نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک شدگان میں ایک امریکی باشندہ بھی شامل ہے۔ امریکی سفارتخانے نے سعودی عرب میں موجود اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک سے نکل جانے کو کہا ہے جبکہ برطانوی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ بغیر کسی ضروری کام کے وہاں کا سفر نہ کریں۔ ایک بیان میں جس کے بارے میں خیال ہے کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والی ایک تنظیم نے جاری کیا ہے، اس حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ ایک اسلامی ویب سائٹ پر شائع ہونے والا یہ بیان جو القدس نامی تنظیم سے منسوب ہے کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو سعودی دولت نہیں لوٹنے دی جائے گی۔ ان شدت پسندوں کی تعداد پانچ بتائی گئی ہے جنہوں نے پہلے ٹریفک پر فائرنگ کی اور اس کے بعد اوئسِس نامی رہائشی احاطے میں گھس گئے۔ اس احاطے میں غیرملکی تیل کمپنیوں کے دفاتر اور ان ملازمین کے گھر واقع ہیں۔ ان شدت پسندوں نےپہلے پانچ لبنانی شہریوں کو پکڑ لیا تھا تاہم بعد میں انہیں چھوڑ دیا۔ جبکہ کمپاؤنڈ کے منیجر کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے قبضہ میں اب تک پچاس افراد موجود ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ مسلح افراد فوجی یونیفارم کی طرز کا لباس پہنے ہوئے تھے اور یہ کہ اس کارروائی میں دو گاڑیاں استعمال کی گئی ہیں۔ احاطے میں مقیم ایک امریکی خاتون جنہوں نے الماری میں چھپ کر جان بچائی، اپنے موبائل فون کے ذریعہ امریکہ میں رشتہ داروں کو فون پر اس واقع کی تفصیلات بتائیں۔ اس ماہ کے اوائل میں ینبوع میں کئے گئے ایک حملے میں پانچ غیر ملکی ہلاک ہو گئے تھے جبکہ گزشتہ ہفتے دارالحکومت ریاض میں جرمنی کا ایک باشندہ ہلاک ہو گیا تھا۔ حالیہ مہینوں میں سکیورٹی فوج اور مشتبہ شدت پسندوں کے درمیان اسی طرح کی کئی جھڑپیں ہوئی ہیں۔ یہ شدت پسند بالعموم سعودی عرب میں واقع مغربی مفادات کو نشانہ بناتے ہیں۔ مشرق وسطی میں بی بی سی کے نامہ نگار پال ووڈ کا کہنا ہے کہ شدت پسند تیل کی صنعت میں کام کرنے والے غیرملکیوں کو خوفزدہ کر کے سعودی شاہی خاندان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ الخبر شہر دارالحکومت ریاض کے شمال مشرق میں چار سو کلومیٹر دور واقع ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||