BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 May, 2004, 15:30 GMT 20:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہریار، رمیز، کمیٹی کے روبرو

شہریار خان اور رمیز راجہ
شہریار خان اور رمیز راجہ
پاکستان سینٹ کی سپورٹس سے متعلق سٹینڈنگ کمیٹی نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو تنظیمی دستور بحال کر کے تمام معاملات جمہوری انداز میں چلانے کی ہدایت کی ہے۔

اس کے علاوہ سٹینڈنگ کمیٹی نے بےجا اخراجات پر شدید اعتراض کرتے ہوئے اخراجات کی تفصیل بھی طلب کر لی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان، چیف ایگزیکٹو رمیز راجہ اور چیف سلیکٹر وسیم باری سنیچر کو اسلام آباد میں سپورٹس سے متعلق سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔

تین گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس کا مقصد پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات کا جائزہ لینا تھا۔ سٹینڈنگ کمیٹی بارہ ارکان پر مشتمل ہے جس کے سربراہ سینیٹر ظفر اقبال چوہدری ہیں۔

کمیٹی کے رکن سینیٹر انور بیگ نے اجلاس کے بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ حکام قوم سے حقائق چھپاتے ہیں اس لئے سٹینڈنگ کمیٹی ان حقائق کو عوام کے سامنے لانا چاہتی ہے۔

 مجھے صدر جنرل پرویز مشرف نے کمینٹری کرنے کی اجازت دی تھی۔ اور ان کی اجازت تحریری نہیں بلکہ زبانی ہے۔
رمیز راجہ

انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے پاکستان کرکٹ بورڈ میں ایڈہاک ازم کے رجحان پر اعتراض کیا ہے اور شہریار خان سے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد آئین میں ضروری رد و بدل کریں اور جنرل باڈی کے ذریعے کرکٹ بورڈ کے معاملات جمہوری انداز میں چلائیں۔

سٹینڈنگ کمیٹی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ حکام کو مالی معاملات میں بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

کمیٹی نے یہ سوال کیا کہ بھارت کے خلاف حالیہ ہوم سیریز کے نشریاتی حقوق کے لئے دور درشن نے 16 ملین ڈالرز کی پیشکش کی تھی لیکن اس کی کیا وجہ ہے کہ نشریاتی حقوق صرف 7 ملین ڈالرز میں ٹین سپورٹس کو دے دیئے گئے؟

سٹینڈنگ کمیٹی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلی حکام سے یہ سوال بھی کیا کہ مارکیٹنگ کنسلٹنٹ کو صرف تین ماہ میں 70 لاکھ روپے کی خطیر رقم دی جا چکی ہے جو 4 ہزار روپے فی گھنٹہ بنتی ہے۔ سٹینڈنگ کمیٹی نے شہر یار خان کو کرکٹ بورڈ کا آڈٹ اور کھاتوں کی تفصیل پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

کمیٹی نے یہ معاملہ بھی اٹھایا کہ رمیز راجہ نے چیف ایگزیکٹو کے عہدے دار ہوتے ہوئے بھی کمنٹری کیوں کی؟ جواب میں رمیز راجہ نے یہ کہا کہ انہوں نے اس کی اجازت آئی سی سی کے علاوہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سرپرست اعلیٰ صدر مشرف سے لی ہے۔ اس بات پر جب ان سے یہ کہا گیا کہ وہ تحریری اجازت نامہ کمیٹی کے سامنے پیش کریں تو رمیز راجہ نے جواب دیا کہ صدر مشرف کی اجازت تحریری نہیں بلکہ زبانی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد