عرفات کا محاصرہ ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی فوج نے غرب اردن کے شہر رملہ میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے ہیڈکواٹر کا محاصرہ فوراً ختم کر دیا ہے۔ ادھر غزہ کی پٹی میں واقع خان یونس کے پناہ گزیں کیمپ میں فلسطینیوں کے ایک اجتماع پر اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے ایک راکٹ فائر کیا۔ اسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ایک فلسطینی ہلاک جبکہ بارہ زخمی ہوگئے ہیں۔ ایک فلسطینی افسر نبیل ابو روضینہ نے بیایا ہے کہ لگ بھگ پندرہ اسرائیلی جیپیوں نے عمارت میں داخلے کے تینوں راستوں کو بند کر دیا۔ دوسال سے یاسر عرفات کی نقل و حرکت اسی عمارت تک محدود ہے۔ اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ وہ رملہ میں معمول کی گرفتاریاں کرنے آئے ہیں اور ان کا عرفات کے احاطے میں داخل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ گزشتہ ماہ اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شرون نے کہا تھا کہ انہوں نے تین سال پہلے یاسر عرفات کو گزند نہ پہنچانے کا جو وعدہ کیا تھا اب وہ خود کو اس کا پابند نہیں سمجھتے۔ تاہم بعد میں دوسرے اسرائیلی وزراء نے کہا کہ مسٹر عرفات کو نقصان پہنچانے کا اسرائیل کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||