اپوزیشن امیدوار سپیکر منتخب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا میں حزب اختلاف کے امیدوار لوکُو بنڈارہ نے سپیکر کا انتخاب جیت لیا ہے۔ حزب اختلاف کے امیدوار کی فتح کے بعد صدر چندریکا کماراٹنگا کے لئے آئینی اصلاحات میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ مرکزی اپوزیشن جماعت یونائیٹڈ نیشنل پارٹی نے رائے شماری کے تیسرے دور میں کامیابی حاصل کی۔ اس سے پہلے کے دو ادوار میں حکومت اور حزب اختلاف کے امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد برابر رہی تھی۔ دونوں امیدواروں کو ایک سو آٹھ ووٹ ملے تھے۔ اس سے پہلے موصول ہونے والے ااطلاعات میں کہا گیا تھا کہ پارلیمان میں تعطل کی صورت حال جاری ہے کیونکہ ملک کے قانون ساز ارکان کی عین نصف تعداد حکمراں مخلوط اتحاد اور نصف تعداد حزب اختلاف کے امیدواروں کے حق میں ہے۔ حکومت اس بات کی خواہاں تھی کہ اس کے امیدوار دیو گنیسیکرا کو نیا سپیکر مقرر کیا جائے۔ بدھ راہبوں کے ایک گروہ نے، جن کے پاس پارلیمان کی آٹھ اہم نشستیں ہیں، اعلان کیا ہے کہ وہ ووٹنگ میں حصہ لینے سے پرہیز کر رہا ہے۔ ایک راہب رکن پارلیمان اتھورالیا رتانا نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں پارلیمان میں اس طرح کے برے رویے کی توقع نہ تھی‘۔ انہوں نے ارکان پارلیمان سے اسمبلی کا احترام ملحوظ رکھنے کی اپیل کی کیونکہ اس وقت حلیف قانون ساز ارکان آپس میں بدکلامی کر رہے تھے۔ پارلیمان کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ اب اس ضمن میں نئی ووٹنگ کرائی جائے گی۔ حالیہ تنازعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی صدر چندریکا کماراتنگا اپنی جونیئر اتحادی جماعت پیپلز لبریشن فرنٹ کے ساتھ اختیارات کے اشتراک سے متعلق مسائل حل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||