| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکن پارلیمان میں ہنگامہ آرائی
سری لنکا کی پارلیمان کے اجلاس میں سپیکر نے کہا ہے کہ صدر چندریکا کماراتنگا کا پارلیمان کو معطل کرنے کا فیصلہ غیر آئینی تھا۔ پارلیمان کا یہ اجلاس، صدر کی جانب سے پارلیمان عارضی طور پر معطل کئے جانے کے دو ہفتہ بعد طلب کیا گیا ہے۔ صدر کے اس فیصلے سے ملک سیاسی بحران کا شکار ہوگیا ہے۔ سری لنکا کی صدر کمارتنگا اور وزیرِ اعظم رانل وکرمہا سنگھے کے بیچ یہ تنازعہ ہے کہ قیامِ امن کے لئے تامل باغیوں کے ساتھ کس طرح معاملات طے کئے جائیں۔ یہ تنازعہ نہ صرف ملک میں امن کے قیام کے لئے خطرہ ہے بلکہ اس سے اربوں ڈالر کی غیر ملکی امداد کو بھی داؤ پر لگایا جاریا ہے۔ اجلاس کے دوران سپیکر کی جانب سے صدر کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیئے جانے بعد حزبِ اختلاف نے پارلیمان میں ہنگامہ آرائی شروع کردی۔ سپیکر نے متنبہ کیا ہے کہ اگر مستقبل میں صدر نے پارلیمان کے اجلاس میں رخنہ اندازی کی کوشش کی تو ان کی ہدایات کو نظر انداز کردیا جائے گا اور پارلیمان خود ہی اجلاس کے لئے جمع ہو جائے گی۔ کولمبو میں بی بی سی کی نامہ نگار فرانسس ہیریسن کے مطابق سپیکر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کا سیاسی بحران کس قدر شدید ہے۔ ملک کی سربراہ اور حزبِ اقتدار، مخالف جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اقتدار کی اس جنگ میں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں۔ ملک میں پارلیمان کے معطل کئے جانے اور صدر کی جانب سے انتخابات منعقد کروانے کی باتیں تو ہورہی تھیں تاہم نامہ نگار کے مطابق فی الوقت اس کا امکان نظر نہیں آتا کیونکہ وزیرِ اعظم ملک کا بجٹ پیش کرنے والے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بجٹ میں حکومتی ملازمین کی تنخواہیں بڑھائی جائیں گی کیونکہ وزیرِ اعظم عوام میں اپنا اعتماد بحال کرنا چاہتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||