BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 November, 2003, 03:27 GMT 08:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سری لنکا میں ہنگامی حالت
سری لنکا کی صدر اور وزیرِ اعظم
کیا صدر اور وزیرِ اعظم میں بحران بڑھتا جا رہا ہے؟

سری لنکا کی صدر چندریکا کماراتنگا نے پارلیمان کی معطلی اور تین اہم وزراء کی برطرفی کے بعد بدھ کو ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کر دیا ہے۔

اس سے قبل سری لنکا کے وزیر خارجہ ٹائرون فرنانڈو نےصدر کمارا تنگا پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر نے جلد بازی کر دی۔

وزیر خارجہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ افسوسناک ہے کہ صدر نے اس وقت جلدبازی میں فیصلہ کیا جب امن کے عمل میں تیزی آگئ تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن کے عمل کے فائدے کا نومبر میں آنے والے بجٹ میں اندازہ کیا جانے والا تھا لیکن پارلیمان کی دو ہفتوں کی معطلی کی وجہ سے بجٹ بھی مؤخر ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دو سال کے دوران تامل باغیوں کے ساتھ حکومت کے مذاکرات کی وجہ سے کئی ہزار جانیں بچائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے یہ خدشات کہ تامل باغیوں کی بات بہت زیادہ مانی جا رہی تھی بالک غلط ہیں۔

اس سے پہلے سری لنکا کے وزیر اعظم رنیل وکرماسنگھے نے کہا ہے کہ ان کے تین سرکردہ وزیروں کی صدر کی طرف سے برطرفی ملک کو افراتفری اور انارکی میں دھکیل سکتی ہے۔

وزیراعظم وکرماسنگھے نے یہ بیان امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں جاری کیا ہے جہاں وہ صدر بش کو سری لنکا میں تامل ٹائیگر باغیوں کے ساتھ جاری امن مذاکرات سے آگاہ کرنے گئے ہیں۔

خود تامل باغیوں کا کہنا ہے کہ صدر کے اقدامات سے امن کے امکانات معدوم ہو جائیں گے۔

وزیراعظم اور تامل باغیوں کے یہ تبصرے صدر چندریکا کماراتنگا کی جانب سے حکومت کے تین مضبوط ترین وزراء کو برطرف کرنے اور پارلیمان کو دو ہفتہ کے لئے معطل کردینے کے بعد سامنے آئے ہیں۔صدر کے اس قدم سے سری لنکا ایک آئینی بحران میں مبتلا ہوگیا ہے۔

صدر نے امن و امان کی صورتحال پر قابو رکھنے کے لئے دارالحکومت کولمبو میں اہم مقامات پر فوج بھی تعینات کردی ہے ۔

وزراء کی برطرفی کا اقدام تامل باغیوں کی جانب سے حکومت کے ساتھ مشترکہ اختیارات کی باقاعدہ تجویز داخل کرنے کے چند ہی دن بعد کیا گیا ہے۔

برطرف کئے گئے وزراء میں وزیرِ دفاع تلک ماراپانا، وزیرِ اطلاعات جان اماراتنگا اور وزیرِ داخلہ امتیاز بکیر مارکر شامل ہیں۔

ایک صدارتی ترجمان کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملک کے سیکورٹی کے نظام میں پیدا ہونے والے بگاڑ کو دور کرنا ہے۔

کولمبو میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق چندریکا کماراتنگا اور وزیرِ اعظم رنیل وکرما سنگھے کے درمیان سری لنکا میں امن کےقیام کے لئے کئے جانے والے اقدامات پرکافی عرصے سے شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔

صدر کا الزام ہے کہ وزیرِ اعظم تامل باغیوں کو بہت چھوٹ دے رہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد