| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا میں سیاسی بحران
سری لنکا کے وزیراعظم رنیل وکرماسنگھے نے کہا ہے کہ ان کے تین سرکردہ وزیروں کی صدر چندریکا کماراتنگا کی طرف سے برطرفی ملک کو افراتفری اور انارکی میں دھکیل سکتی ہے۔ وزیراعظم وکرماسنگھے نے یہ بیان امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں جاری کیا ہے جہاں وہ صدر بش کو سری لنکا میں تامل ٹائیگر باغیوں کے ساتھ جاری امن مذاکرات سے آگاہ کرنے گئے ہیں۔ خود تامل باغیوں کا کہنا ہے کہ صدر کے اقدامات سے امن کے امکانات معدوم ہو جائیں گے۔ وزیراعظم اور تامل باغیوں کے یہ تبصرے صدر چندریکا کماراتنگا کی جانب سے حکومت کے تین مضبوط ترین وزراء کو برطرف کرنے اور پارلیمان کو دو ہفتہ کے لئے معطل کردینے کے بعد سامنے آئے ہیں۔صدر کے اس قدم سے سری لنکا ایک آئینی بحران میں مبتلا ہوگیا ہے۔ صدر نے امن و امان کی صورتحال پر قابو رکھنے کے لئے دارالحکومت کولمبو میں اہم مقامات پر فوج بھی تعینات کردی ہے ۔ وزراء کی برطرفی کا اقدام تامل باغیوں کی جانب سے حکومت کے ساتھ مشترکہ اختیارات کی باقاعدہ تجویز داخل کرنے کے چند ہی دن بعد کیا گیا ہے۔ برطرف کئے گئے وزراء میں وزیرِ دفاع تلک ماراپانا، وزیرِ اطلاعات جان اماراتنگا اور وزیرِ داخلہ امتیاز بکیر مارکر شامل ہیں۔ ایک صدارتی ترجمان کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملک کے سیکورٹی کے نظام میں پیدا ہونے والے بگاڑ کو دور کرنا ہے۔ کولمبو میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق چندریکا کماراتنگا اور وزیرِ اعظم رنیل وکرما سنگھے کے درمیان سری لنکا میں امن کےقیام کے لئے کئے جانے والے اقدامات پرکافی عرصے سے شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ صدر کا الزام ہے کہ وزیرِ اعظم تامل باغیوں کو بہت چھوٹ دے رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||