شرون کی حمایت، عرفات برہم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی رہنما یاسر عرفات نے اس بات پر شدید ردعمل اور برہمی کا اظہار کیا ہے کہ امریکی صدر نے مشرق وسطی میں قیام امن کے لئے اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شرون کے منصوبۂ امن کی حمایت کی ہے۔ ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں عرفات نے ایک ایسی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ دوہرایا جس کا دارالحکومت یروشلم ہو یا بیت المقدس ہو۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی پناہ گزیں اسرائیل میں واقع اپنے سابق گھروں کو لوٹنے کے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ شرون کے متنازعہ امن منصوبہ میں غرب اردن کے بڑے حصہ کو قبضہ میں رکھتے ہوئے غزہ کی پٹی سے اسرائیل کا انخلا شامل ہے۔ عرفات نے اپنے خطاب میں صدر بش اور وزیراعظم شرون کے مابین بدھ کو ہونے والی ملاقات کا حوالہ نہیں دیا تاہم انہوں نے کہا: ’مشرق وسطی میں امن اسی صورت میں قائم ہوسکتا ہے جب خطے سے اسرائیل مکمل طور پر نکل جائے اور بحالی کا عمل شروع ہوجائے۔‘ شرون امن منصوبہ کے بارے میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کوفی عنان نے بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسئلہ کا پائیدار حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہی نکل سکتا ہے۔ یہ نیا تنازعہ ایسے وقت میں اٹھ کھڑا ہوا ہے جب اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے جنوبی حصہ میں پھر سے حملے شروع کیے ہیں۔ فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجہ میں رفاہ کے پناہ گزیں کیمپ میں پندرہ فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ وہ کیمپ میں ان سرنگوں کو تلاش کر رہا ہے جن کے ذریعہ مصر سے ہتھیار سمگل کر کے لائے جاتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||