’بش نے وارننگ کو نظر انداز کیا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وائٹ ہاؤس میں سیکیورٹی کے ایک سابق ماہر نے بش انتظامیہ پر الزام لگایا ہے اس نے گیارہ ستمبر سے قبل دہشت گردی کے خطرے کی سنگینی کو محسوس نہیں کیا۔ رچرڈ کلارک کا کہنا ہے کہ اپنے اقتدار کے ابتدائی آٹھ ماہ میں حکومت نے دہشت گردی کو اہم مسئلہ تو سمجھا لیکن ہنگامی نہیں ۔انہوں نے کہا کہ عراق پر حملے نے دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ کی اہمیت کو کم کر دیا۔رچرڈ کلارک اس امریکی کمیشن کے سامنے بیان دے رہے تھے جو سن دوہزار ایک میں نیو یارک اور واشنگٹن پر ہونے والے حملوں کی تحقیق کر رہا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان کی شروعات ان لوگوں کے عزیزوں سے معافی مانگتے ہوئے کی جو گیارہ ستمبر کے حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت انہیں بچانے میں نا کام رہی۔ رچرڈ کلارک نے گزشتہ برس اپنا عہدہ چھوڑدیا تھا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ القاعدہ کے مسئلے پر کچھ پیش رفت ہو رہی تھی ۔’ حالانکہ میں مسلسل یہ کہتا رہا کہ یہ سنگین مسئلہ ہے لیکن میرے خیال میں اسے اتنی سنجیدگی سے کبھی نہیں لیا گیا ‘۔ انہوں نے کمیشن سے کہا کہ عراق پر حملہ کرکے امریکی صدر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اہمیت کو بلکل ختم کر دیا۔انہوں نے ایف بی آئی کی بھی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اس نے یہ خفیہ معلومات نہیں پہنچائیں کہ القاعدہ کے دو ایجنٹ گیارہ ستمبر کے حملوں سے قبل امریکہ میں موجود تھے۔ قبل ازیں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جارج ٹینٹ نے کہا کہ دہشت گردی سے نپٹنے کے لئے ان کے ادارے کی شدید کوششوں کے باوجود سی آئی اے کو گیارہ ستمبر کے حملوں کی پہلے سے کوئی اطلاع نہیں تھی ۔ پینل کی جانب سے یہ پوچھے جانے پر کہ سی آئی اے ان حملوں کو روکنے میں کیوں ناکام رہی انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جو معلومات تھیں ہم نے ان کو مربوط ڈھنگ سے نہیں دیکھا۔ اگر ہمیں پتہ ہوتا کہ اس معاملے میں ہمارے پاس اتنی ذیادہ معلومات موجود ہیں تو ممکن ہے کہ ہم بہتر طور پر اس سے نپٹ سکتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||