گوانتا نامو سے مزید چھبیس قیدی رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کا کہنا ہے کہ کیوبا کے حراستی کیمپ گوانتا نامو بے میں زیر حراست مزید چھبیس افراد کو رہا کیا جارہا ہے۔ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان میں تیئس افغان اور تین پاکستانی ہیں ۔ اس طرح ایک سو انیس قیدیوں کو رہائی مل گئ ہے۔ چھ سو دس افراد اب بھی زیر حراست ہیں ۔ اب تک کُل ملاکر ایک سو انیس کو رہائی دی گئی ہے اور بارہ کو بقول محکمۂ دفاع مزید حراست کے لۓ منتقل کردیا گیا ہے۔ چار کو سعودی عرب، ایک کو اسپین، اور سات کو روسی حکومت کے حوالے کیا گیا۔ پینٹیگون کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی رہائی اور منتقلی کا انحصار کئ باتوں پر ہوتا ہے۔ یعنی کیا ان سے مزید معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں یا وہ امریکہ کے لۓ مزید خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ لیکن پینٹیگون نے تسلیم کیا ہے کہ بہت سے قیدیوں کو مقدمے کے بغیرغیر معینہ مدت تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جنگ کے بین الاقوامی قانون کے تحت یہ جائز ہے۔ پینٹیگون کے حکام کہتے ہیں کہ قیدیوں کے ساتھ مناسب سلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ حال میں رہا ہونے والے برطانوی قیدیوں نے بد سلوکی کے جو الزامات لگاۓ ہیں وہ جھوٹ اور افتراع ہیں ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||