کولن پاول پاکستان پہنچ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے کہا ہے کہ پاکستانی سرحد پر سکیورٹی بڑھانے کے حوالے سے مشرف حکومت کی حوصلہ افزائی کے لئےامریکہ نے ہر ممکن اقدام کیا ہے۔ کولن پاول افغانستان کے مختصر دورے کے بعد پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ توقع ہے کہ وہ پاکستان میں حکام کے ساتھ پاک بھارت تعلقات اور جوہری عدم پھیلاؤ پر بات کریں گے۔ انہوں نے کابل کے دورے میں القاعدہ اور طالبان جنگجوؤں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ کولن پاول جنوبی ایشا کے دورے پر بھارت اور افغانستان سے ہوتہ ہوئے پاکستان پہنچے ہیں۔ کابل میں افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے بعد انہوں نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔ ملاقات کے دوران اس سال کے آخر میں افغانستان میں ہونے والے انتخابات پر بھی غور کیا گیا۔ کولن پاول اور حامد کرزئی نے گفتگو کے دوران افغانستان میں سکیورٹی اور پاک افغان سرحد کے دونوں جانب جاری فوجی کارروائیوں پر بھی بات چیت کی۔ کولن پاول نے کہا کہ صدر جارج بش اور امریکی عوام افغانستان کی تعمیر اور ملک کو ایک آئینی جمہوریہ بنانے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے افغانستان میں انتخابات کی تیاریوں کو سراہا اور اس بات پر خصوصی تسلی کا اظہار کیا کہ خواتین خود اپنے آپ کو ووٹنگ کے لئے رجسٹر کروا رہی ہیں۔ کولن پاول ایسے وقت پر یہ دورہ کررہے ہیں ہیں جب امریکی قیادت والی فوج افغانستان کے سرحدی علاقے میں القاعدہ اور طالبان جنگجوؤں کے خلاف سرگرم ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے نیم فوجی دستے القاعدہ اور طالبان جنگجوؤں کے خلاف وزیرستان میں ایک آپریشن کر رہے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنی سرحدی حدود میں اسامہ بن لادن اور دیگر شدت پسند رہنماؤں کو پکڑنے کی کوششوں میں اضافہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو محض ایک عارضی قربت قرار دیتے ہیں، وہ پاکستان اور امریکہ کے مضبوط ارادوں سے ناآشنا ہیں۔ کولن پاول اپنے کے دورے کے پہلے مرحلے میں پیر کی رات بھارتی دارالحکومت دہلی پہنچے تھے جہاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ وہ اسلام آباد میں صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے دوران پاکستانی سائنسدان عبدالقدیر خان کی جانب سے جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی پر بھی تفصیلی گفتگو کریں گے۔ کولن پاول پاکستان پہنچ کر صدر جنرل پرویز مشرف کے علاوہ وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی اور وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری سے بھی ملاقات کریں گے۔ دہلی میں جنوبی ایشا کی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کولن پاول نے کہا تھا کہ حالیہ چند ماہ کے دوران حالات میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے اور ’ہم ایسے وقت یہاں پہنچے ہیں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ سیریز کھیلی جا رہی ہے۔ ڈیڑھ برس قبل کے مقابلے میں یہ خاصی بڑی تبدیلی ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||