یورپ: دہشت گردی پراجلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین کے شہر میڈرڈ میں ہونے والے بم دھماکوں کے معاملے میں مسلم شدت پسندوں پر شبہات میں اضافہ کے پیش نظر یورپی ممالک نے سکیورٹی کے امور سے متعلق ہنگامی اجلاس طلب کئے ہیں۔ اس حوالے سے یورپی وزراء جمعہ کو مذاکرات کریں گے اور اس دوران خفیہ ایجنسیوں کے افسران سپین کے دارالحکومت پہنچیں گے اور باہمی تعاون کے فروغ پر غور کیا جائے گا۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اگلے ہفتے منعقد ہونے والے یورپی اتحاد کے سربراہ اجلاس میں بھی سکیورٹی کے امور پر غور اولیں ترجیح رہے گی۔ نئے اجلاس بلانے کا اعلان، امریکہ کی جانب سے القاعدہ کو میڈرڈ کے حملوں میں ملوث قرار دیئے جانے کے بعد کیا گیا ہے۔ امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسر آسا ہچینسن کے مطابق میڈرڈ میں حملہ کرنے والوں اور القاعدہ کے نیٹ ورک کے درمیان ممکنہ رابطے پر بہت سے سوالیہ نشانات ابھی باقی ہیں البتہ وہ اس بات سے متفق تھے کہ القاعدہ اس واقعہ میں ضرور ملوث تھی۔ میڈرڈ میں ہونے والے ان بم دھماکوں کے تین روز بعد سپین میں منعقد ہونے والے انتخابات کے بعد ملکی حکومت تبدیل ہو گئی اور نئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ عراق سے اپنے فوجی واپس بلا لیں۔ سپین میں وزیرِ داخلہ کے عہدے سے برخاست ہونے والے اینجل ایسبس نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم نے آئندہ روز میں دہشت گردی پر قابو پانے والی اہم ترین ایجنسیوں کا اجلاس طلب کیا گیا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ سپین کی حکومت میڈرڈ حملوں کے سلسلے میں یورپی ممالک اور مراکش کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق سکیورٹی سے متلعق نئے اجلاس طلب کئے جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ میڈرڈ میں ہونے والے حملوں کے نتائج و اثرات ملکی حدود سے باہر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||