پکتیا میں نو’طالبان‘ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی اور افغان فوج نے پاکستان کی سرحد کے نزدیک مشرقی صوبے پکتیا میں ایک مسلح لڑائی میں نو مشتبہ اسلامی شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعہ کو ہونے والی یہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب امریکی فوج نے تیس سے چالیس مسلح افراد پر فائرنگ کردی جو کابل کے جنوب میں اس مقام کی طرف بڑھ رہے تھے جہاں سے گھات لگا کر اتحادی فوج پر حملہ کیا جا سکتا تھا۔ امریکی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل برآئن ہلفرٹی نے بتایا کہ شدت پسند مسلح تھے اور ان کا عمل اور ارادے بہت خطرناک تھے چنانچہ ان پر فائرنگ کی گئی اور افغان فوج کے ہمراہ ان کا تعاقب بھی کیا گیا۔’اس جھڑپ میں نو شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا لیکن اتحادی فوج کو کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔‘ اس جھڑپ میں امریکہ کی سپیشل آپریشن ٹاسک فورس کے دس فوجی شامل تھے جنہیں افغان بٹالین کی مدد حاصل تھی۔ امریکی ترجمان کے مطابق باقی شدت پسند فرار ہو گئے۔ افغانستان میں امریکہ کی زیرِ قیادت بین الاقوامی فوج کی تعداد تیرہ ہزار ہے اور اسے مقامی افغانوں کی مدد حاصل ہے۔ اس فوج اور اسلامی شدت پسندوں یا معزول طالبان کی باقیات کے درمیان حالیہ مہینوں میں اتنی شدید لڑائی نہیں ہوئی۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق مرنے والے نو افراد طالبان تھے۔ اس خبر رساں ادارے نے امریکہ کے فوجی ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ انہیں نہیں معلوم کہ فائرنگ شروع کس نے کی تھی۔ طالبان کی باقیات نے افغانستان میں موجود غیر ملکی فوج کے خلاف جہاد کا اعلان کر رکھا ہے۔ ادھر ایک علیحدہ واقعہ میں جمعرات کو خوست میں چودہ مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان افراد سے تفتیش کی جارہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||