BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 March, 2004, 11:21 GMT 16:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پرانی ڈگر کے نئے مسافر

News image
شاہ رخ خان، پریتی زنٹا اور سیف علی خان
خاموش فلموں کے دور میں کیمرہ مین، ہدایت کار، اداکار اور سٹنٹ مین ہی فلم سازی کے ستون سمجھے جاتے تھے اور مصنف کی حیثیت محض ایک ایسے کلرک کی تھی جو ہدایات کے مطابق ٹائیٹل تحریر کیا کرتا تھا۔

مغربی ممالک سے جب فلمسازی کا فن ہندوستان پہنچا تو یہ روایت بھی ساتھ ہی چلی آئی اور ناطق فلموں کا دور شروع ہونے کے بعد بمبئی کے سٹوڈیوز میں ماہوار تنخواہ پر ایسے منشی ملازم رکھے جانے لگے جو شوٹنگ کے وقت سیٹ پر موجود رہتے اور ضرورت کے مطابق مکالمے لکھ دیا کرتے۔

سن چالیس، پچاس اور ساٹھ کے عشروں میں اگرچہ منٹو، کرشن اور بیدی جیسے لکھاری بھی فلمی دنیا میں آئے لیکن فلم رائٹر کو اس صنعت میں مرکزی مقام سن ستّر کی دہائی میں ملا جسکا سہرا بجا طور پہ جاوید اختر کے سر ہے۔

جاوید اختر نے اپنے دوست سلیم خان کے ساتھ ملکر سکرپٹ رائٹنگ کو نہ صرف ایک معزز پیشے میں بدل دیا بلکہ پاک و ہند کی فلمی تاریخ میں پہلی بار فلمساز کے بے پناہ منافعے میں سے مصنّف کو اسکا جائز حصّہ بھی دلوایا۔

شاید یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ آج تیس برس بعد جب ہندوستان کی فلمی صنعت ایک بار پھر فارمولہ کہانیوں کے بھنور میں پھنس کر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے تو اسی جاوید اخترکا بیٹا فرحان اختر اپنے جواں سال اور جواں فکر ساتھیوں کے ہمراہ میدان میں آچکا ہے۔

کہانی کا فن فرحان کے خون میں ہے: ان کی والدہ ہنی ایرانی بھی کئی معروف و مقبول فلمی کہانیوں کی مصنفّہ ہیں۔ فرحان نے تصنیف و ہدایات کا سلسلہ تین سال پہلے شروع کیا اور انکی پہلی ہی فلم ’ دل چاہتا ہے‘ نے دنیا کو چونکا دیا۔

News image
کرن جوہر

ابتدا ہی میں ایک اونچا معیار قائم کر دینے کے باعث ان پر یہ بھاری ذمہ داری بھی عائد ہو گئی کہ اس معیار کو گرنے نہ دیں چنانچہ اپنی دوسری فلم ’ لکشیہ‘ (منزل) کے لئے انھوں نے تین برس تک سوچ بچار کی اور اب اسکی تکمیل کے بعد وہ اپنی تیسری فلم ’نرگس‘ کی کاغذی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

بالی وڈ کے نئے لکھاریوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ لوگ فلم پروڈکشن کے ہر شعبے سے بخوبی واقف ہیں۔ مثلاً فلمساز و ہدایتکار یش جوہر کے بتیس سالہ بیٹے کرن جوہر کی مثال لیجئے جنھوں نے سترہ سال کی عمر میں ایک ٹی۔وی اداکار کے طور پر اپنے سفر کا آغاز کیا-

فلم ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ میں ہیرو کے دوست کا کردار ادا کرنے کے بعد کرن جوہر نے ’دل تو پاگل ہے‘ اور ’محبتیں‘ کے ملبوسات بھی ڈیزائن کئے۔

لیکن کرن کے پورے جوہر 1998 میں کھلے جب وہ تحریر و ہدایات کی مکمل صلاحیتوں کے ساتھ میدان میں آئے اور فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ بنائی۔

2001 میں انکی لکھی اور ڈائریکٹ کی ہوئی فلم ’کبھی خوشی کبھی غم‘ نے باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل کی ۔

حال ہی میں ان کی پروڈیوس کی ہوئی فلم ’ کل ہو نہ ہو‘ نے دنیا بھر میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں۔ اس فلم کے کچھ مکالمے بھی انہوں نے خود لکھے تھے۔

نئے لوگوں میں انتیس سالہ سپرن ورما کا نام قابل ذکر ہے جو صحافت کا میدان چھوڑ کر فلم رائٹنگ میں آئے ہیں۔

ان کی فلمیں چھل (2002)، یہ کیا ہو رہا ہے (2002)، قیامت (2003)، جانشین (2003) اور زمین (2003) نے ناظرین اور ناقدین دونوں سے داد حاصل کی ہے۔

تیس سالہ سری دھر راگھون نے فلم خاکی لکھ کر اپنا لوہا منوایا ہے اور اب وہ فلم دیوار لکھ رہے ہیں۔

لیکن نوجوانوں میں سب سے حیرت انگیز شخص ملاپ زاویری ہے جس کی عمر صرف تئیس سال ہے۔ گزشتہ برس اس نے فلم یہ محبت ہے کے مکالمے لکھ کر اپنا تعارف کروایا تھا اور اس کے بعد فلم کانٹے کے یادگار مکالمے لکھ کر اپنی دھاک بٹھا دی۔

کچھ ہی عرصہ پہلے ان کی لکھی ہوئی فلم ’جھنکار بیٹس‘ سامنے آئی اور حال ہی میں ان کی نئی فلم ’پلان‘ ریلیز ہوئی ہے۔

وشال بھردواج نے بھی شیکسپیئر کے معروف ڈرامے میکبتھ کو آج کے ہندوستانی ماحول میں ڈھال کر فلم ’مقبول‘ بنائی ہے جو کہ اپنے نام کی طرح ہر طرف مقبول ہوئی۔

نوجوان لکھاریوں اور ہدایتکاروں کی اس نئی کھیپ سے فلم بینوں کی بہت امیدیں وابستہ ہیں اور انکی اب تک کی کارکردگی سے یہی لگتا ہے کہ یہ لوگ ان امیدوں پر پورے اتریں گے اور فلمی کہانی کو فارمولے کی گھسی پٹی ڈگر سے ہٹا کر زندگی کی نئی جہتوں سے روشناس کرائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد