ایران کے لکھ پتی ملا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس ماہ کے الیکشن سے پہلے بی بی سی فارسی سروس کی ماریا سرسالاری جدید ایرانی معاشرے کا حال کچھ یوں بیان کرتی ہیں۔ اگر آپ تہران کے شمالی مضافات میں کچھ دیر ڈرائیو کریں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ ایک نئی دنیا میں پہنچ گئے ہیں۔ امریکہ کے ہالی دڈ کے انداز کے بڑے بڑے بنگلے جن میں دیواروں اور سبز لانوں کے پیچھے وہ لوگ رہائش بذیر ہیں جنہوں نے اسلامی انقلاب کے دور میں خوب ترقی کی ہے۔ ایران کے اس نو امیر طبقے میں بہت سے لوگ ملک کی مذہبی اسٹیبلشمنٹ سے بل واسطہ یا بلا واسطہ طور پر منسلک ہیں۔ باہر سے آنے والے انہیں ایران کے ’لکھ پتی ملا‘ کہتے ہیں۔
ایران کی اس نئی کلاس کو پہچاننا بہت آسان ہے۔ یہ لوگ ڈیزائینر کپڑوں میں ملبوس بی ایم ڈبلیو کاریں چلاتے ہوئے تہران کی تنگ سڑکوں پر آسانی سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ شہر کے عالی شان بوتیکوں اور شاپنگ سینٹروں میں ان کا اکثر آنا جانا رہتا ہے۔ یہ لوگ نجی گولف کلبوں کے ممبر ہیں اور ان کا دبئی، لندن اور پیرس بھی آنا جانا رہتا ہے۔
یہ سب انقلاب کے غیر طبقاتی معاشرے کے خواب اور روحانی رہنما آیت اللہ خمینی کی سادہ طرزِ زندگی سے بہت مختلف تصویر ہے۔ ایران کی اس نئی کلاس نے ملک کے ناقص معاشی نظام کا فائدہ اٹھایا ہے۔ اگرچے ایران میں زیادہ تر انڈسٹری سرکاری کنٹرول میں ہے لیکن اگر آپ کے تعلقات اسٹیبلشمنٹ میں ہوں تو آپ کو غیر ملکی تجارت کے لئے لائیسنس مل سکتے ہیں اور آپ تیل، کاروں کی صنعت اور فوڈ پروڈکشن جیسی منافع مند صنعت میں کافی کما سکتے ہیں۔ انیس سو نوے میں کی گئی نج کاری میں بھی صرف انہیں لوگوں کو فائدہ پہنچا جن کا اثر رسوخ تھا یا اسٹیبلشمنٹ میں رابطے۔ اس کے علاوہ انقلاب کےسے پہلے کی صنعتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے قائم کی گئی فلاحی فاؤنڈیشنز، جو معیشت کا پچیس فیصد حصہ ہیں، اسٹیبلشمنٹ کے قابلِ اعتبار علماء کو دی گئی تھیں۔ گزشتہ برسوں میں ان فلاحی فاؤنڈیشنز کو دی گئی ٹیکس کی چھوٹ اور ترجیحی قرضوں سے یہ بہت منافع بخش کمرشل ادارے بن چکے ہیں۔ ان میں سے کچھ کا موازنہ تو مغرب کی کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں سے کر سکتے ہیں لیکن ان اداروں میں اکاؤنٹنگ اور اندرونی احتساب کی روایات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ بہت حیران کن امر ہے کہ ایران میں معیشت چلانے والے تقریباً تمام افراد ایک دوسرے سے خونی یا اذداجی رشتے میں منسلک ہیں۔ عام ایرانی اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ تعلقات کے بغیر ملازمت لینا یا کوئی کام کروانا ناممکن ہے۔ ملک میں بے روزگاری شاہ کے دور سے زیادہ ہے اور نوجوانوں کے لئے کزارا کرنا بہت مشکل ہے۔ شاہ کے زمانے میں ایک کہاوت تھی کہ حکمران خود روٹی کھاتے تھے اور عوام کو ٹکڑے دیتے تھے لیکن اب حال یہ ہے کہ کچھ علماء اپنی پلیٹ بھی چھٹ جاتے ہیں اور غریبوں کے لئے کچھ نہیں بچتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||