عراق میں انتخابات پر اتفاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کی ایک ٹیم عراق میں شیعہ مسلمانوں کے رہنما کے ساتھ جلدی انتخابات کرانے کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔ مذاکرات دو گھنٹے جاری رہے۔ اقوام متحدہ کی ٹیم کے سربراہ لخدر براہیمی نے کہا کہ بات چیت میں براہ راست انتخابات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ بات چیت عراق کے شہر نجف میں شیعہ رہنما آیت اللہ علی سستانی کی رہائش گاہ پر ہوئی۔ ان کے گھر کے ارد گرد سخت حفاظتی اقدامات کیئے گئے ہیں۔ آیت اللہ نے ان امریکی منصوبوں پر کڑی تنقید کی ہے جن کے تحت تیس جون تک عراق میں اقتدار ایک غیر منتخب اتھارٹی کے حوالے کیا جانا ہے۔ ان مذاکرات سے محض اڑتالیس گھنٹے قبل بغداد میں حالیہ ایام کے دو بدترین بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ امریکہ کا الزام ہے کہ اسلامی شدت پسندوں نے جان بوجھ کر یہ خود کش حملےایسے وقت کروائے ہیں جب اقوامِ متحدہ کی ٹیم عراق میں ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ شدت پسند یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ عراق کی صورتِ حال فی الحال انتخابات کرانے کے لئے سازگار نہیں۔ امریکہ نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ جوں جوں جون میں انتقالِ اقتدار کی تاریخ قریب ہوتی جا رہی ہے، خدشہ ہے کہ مزید حملے ہو سکتے ہیں۔ امریکہ نے اس خط کے مندرجات بھی جاری کئے ہیں جو مبینہ طور پر ایک اسلامی انتہا پسن نے تحریر کیا ہے جن کا تعلق القاعدہ تنظیم سے ہے۔ اس خط میں عراق میں موجود سنی اور شیعہ مسلمان کو لڑانے اور خانہ جنگی کرانے کا مطالبہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||