BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 January, 2004, 12:34 GMT 17:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہتھیار: معلومات درست تھیں‘
بلیئر حکومت نے عراق پر حملے سے پہلے شائع دستاویز میں کہا تھا کہ عراق پینتالیس منٹ کے اندر تباہ کن ہتھیار چلانے کی اہلیت رکھتا ہے۔

برطانوی اخبار آبزرور کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے: ’مجھے اس بارے میں رتّی بھر شک بھی نہیں کہ عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے متعلق معلومات درست تھیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ خفیہ معلومات کے بارے میں ایسا سوچنا کہ وہ کبھی غلط نہیں ہو سکتیں، بذات خود ایک حماقت ہے، تاہم ’اگر آپ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تو مجھے پورا یقین ہے کہ وہ معلومات درست تھیں اور میرے خیال میں آخرکار ہمیں پتہ چل جائے گا۔‘

جب ان سے بار بار پوچھا گیا کہ کیا ان کے خیال میں وسیع تباہی کے ہتھیار برآمد کر لئے جائیں گے تو انہوں نے مبہم سا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو عراقی سروے گروپ کا کام ہے۔

جمعہ کے روز ان ہتھیاروں کی تلاش کے لئے جانے والی امریکی جماعت کے مستعفی ہونے والے سربراہ ڈیوڈ کے نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں عراق کے پاس کیمیائی یا جراثیمی ہتھیاروں کا کوئی بڑا ذخیرہ تھا ہی نہیں۔

ڈیوڈ کے کے اس بیان کے بعد امریکی وزیرخارجہ کولن پاول نے بھی اعتراف کیا کہ ہوسکتا ہے کہ حملے سے پہلے عراق کے پاس ڈبلیوایم ڈی نہ رہے ہوں۔

ان ہتھیاروں کے بارے میں بلیئر حکومت نے سن دو ہزار دو میں ایک متنازعہ دستاویز شائع کی تھی جس کے بارے میں جنگ کے بعد عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے متعلق ڈاکٹر کیلی نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ مذکورہ رپورٹ میں حقائق کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے۔

اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے تنازع کے بعد ڈاکٹر کیلی نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی تھی جس کی تحقیقات کے لئے ایک جج لارڈ ہٹن کی سربراہی میں ایک انکوائری شروع کروائی گئی۔

لارڈ ہٹن اپنی تحقیقاتی رپورٹ اٹھائیس تاریخ کو شائع کرنے والے ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد وزیراعظم کے لئے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ٹونی بلیئر کو خانگی محاذ پر سکول کی فیس میں اضافہ کی تجویز بھی مشکلات کا باعث ہو سکتی ہے۔ اس تجویز پر اگلے چند روز میں پارلیمان میں رائے شماری ہوگی۔

بعض مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ان دو معاملات کے نیتجہ میں ٹونی بلیئر کو اپنی کرسی سے ہاتھ دھونا پڑیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد