| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’تنازعات کا حل مرحلہ وار ہوگا‘
بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی پسند تنظیم حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے دہلی میں بھارتی نائب وزیراعظم ایل کے اڈوانی سے مذاکرات کے بعد کہا ہے کہ کشمیر میں امن کےلئے ہرسطح پر ہر قسم کے تشدد کا خاتمہ ضروری ہے۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مرحلہ وار آگے بڑھنا ہوگا۔ اس اجلاس کے بعد نائب وزیرِ اعظم اڈوانی نے اچانک وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی سے بھی ملاقات کی۔ حریت کے وفد نے کہا کہ اس مسئلے کے باعزت اور پائیدار حل بات چیت سے ہی ہو سکتا ہے۔ اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ پیش رفت کے لئے ضروری ہے کہ ہر سطح پر ہر قسم کے تشدد کو ختم ہونا چاہئے۔ یہ بھی کہا گیا کہ مذاکرات کے عمل کو بھی وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ اطلاعات کے مطابق مذاکرات کا اگلا دور مارچ کے دوسرے حصے میں ہوگا۔ پندرہ برس میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی علیحدگی پسند دھڑے نے بھارتی حکومت کے ساتھ اس نوعیت کا رابطہ کیا ہو۔ باور کیا جاتا ہے یہ دھڑا حریت کانفرنس کا معتدل حصہ ہے۔ اس دھڑے کے سربراہ مولانا عباس انصاری نے خبردار کیا ہے کہ اس ملاقات کے فوری نتائج کی توقع نہ کی جائے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ امن کوششوں کے بعد پہلی بار سیاسی کشیدگی میں کمی کے آثار نمودار ہوئے ہیں اور جمعرات کا اجلاس اس تبدیلی کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||