| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
'کشمیر: ریفرنڈم کرا لیا جائے‘
سابق امریکی وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ نےکشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے ریفرنڈم سمیت تین نکاتی فارمولہ پیش کیا ہے۔ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے زیرِ اہتمام جنوبی ایشیا میں امن کے موضوع پر ایک سیمینار سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے میڈلین البرائٹ نے کشمیر کو دنیا کا خطرناک ترین اور انتہائی بدنصیب خطہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے دونوں ملکوں، بھارت اور پاکستان کے مسائل حل کرنے کے لیے جن اقدامات کا اعلان کیا ہے وہ انتہائی اہم ہیں اور پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف ان کی اہمیت اور بھارتی ارادوں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے عام کشمیریوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’کشمیری دہشت گردوں اور سکیورٹی افواج کے درمیان، جو بسا اوقات بنیادی انسانی حقوق کے احترام میں بھی ناکام رہتی ہیں، رگڑے جا رہے ہیں۔‘ نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لیے بہتر یہی ہے کہ ایک ریفرنڈم کے ذریعے کشمیریوں کی مرضی معلوم کر لی جائے۔ کشمیر کے لیے اپنے تجویز کردہ دوسرے دو اقدامات میں انہوں نے کہا کہ موجودہ فائر بندی سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے اور پاکستان کو کشمیر میں دراندازی بند کرنی چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||