صنفی تفریق میں آپ کہاں کھڑے ہیں؟
بی بی سی کے کیلکیولیٹر کی مدد سے آپ اپنے ملک میں صنفی تفریق کے بارے میں جان سکیں گے اور یہ بھی معلوم کر سکیں گے کہ دنیا میں آپ کے ملک کا مقام کیا ہے۔
تلاش کے خانے میں اپنے ملک کا نام درج کریں تو آپ کے سامنے صنفی برابری کی عالمی درجہ بندی سامنے آ جائے گی۔ یہ درجہ بندی عالمی اکنامک فورم کی مدد سے ترتیب دی گئی ہے۔ یہ درجہ بندی ان ممالک میں خواتین کے سیاست میں نمائندگی اور اقتصادی شعبے میں نمائندگی کے تناسب کے علاوہ انھیں صحت اور تعلیم کے شعبے میں برابری کی سطح پر حصہ لینے کی آزادی کی بنیاد پر ترتیب دی گئی ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم، یونیسکو ادارۂ شماریات، او سی ای ڈی
یہ درجہ بندیاں کیسے کی گئیں؟
صنفی تفریق کی درجہ بندی مرتب کرنے کے لیے ورلڈ اکنامک فورم نے ایک درجن سے زیادہ معلومات کا تجزیہ کیا جن میں اقتصادی طور پر نمائندگی اور اس شعبے میں ملنے والے مواقع، تعلیم کا حصول، صحت اور بقا اور سیاسی طور پر بااختیار ہونا شامل ہے۔
درجہ بندیاں ہر ملک میں صنف کی بنیاد پر وسائل تک رسائی، مواقع کی فراہمی کو مدِنظر رکھتے ہوئے دی گئیں۔ اس کی بنیاد پر غریب اور امیر ممالک کا برابری کی سطح پر جائزہ لینا ممکن ہوتا ہے۔
یہ اس فورم کی 10ویں رپورٹ ہے اور اس میں 145 ممالک میں صنفی تفریق کا جائزہ لیا گیا ہے۔
جنس کی بنیاد پر معاوضے میں پائے جانے والے فرق کی معلومات آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈپولپمنٹ’ او ای سی ڈی‘ کی جانب دی گئی ہیں۔ اس میں ہر ممالک کی دستیاب تازہ ترین معلومات شامل ہیں جو سال 2010 سے 2013 کی ہیں۔
’او ای سی ڈی‘نے صنف کی بنیاد پر اجرت میں فرق کا حساب مردوں اور خواتین کی اوسط آمدن اور صرف مردوں کی اوسط آمدن میں پائے جانے والے فرق کی بنیاد پر لگایا گیا ہے اور اس میں صرف کل وقتی ملازمت کرنے والے افراد کو شامل کیا گیا ہے۔
یونیورسٹی سے گریجویٹ کرنے والوں میں خواتین کی تعداد کے اعداد و شمار یونیسکو انسٹی ٹیوٹ آف سٹیٹکس کے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی








