بے چارہ میڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرے کئی صحافی دوستوں کا خیال ہے کہ اگر چھتیس برس پہلے میڈیا اتنا ہی برق رفتار اور آزاد ہوتا جتنا آج ہے تو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش نہ بنتا یا آٹھ برس بعد بھٹو کو پھانسی نہ ہوتی۔ مگر مجھ جیسوں کے خیال میں یہ بالکل ویسی ہی بات جیسی یہ کہ اگر میرے سارے رشتے دار زندہ ہوتے تو آج لاہور سے لندن تک چارپائیاں بچھتیں۔ سوچنا چاہئیے کہ انیس سو اڑسٹھ میں جب میڈیا آج کے مقابلے میں نہ تو اتنا تیزرفتار تھا اور نہ ہی دورمار اثرات کا حامل،اس کے باوجود امریکی انتظامیہ کو ویتنام کے معاملے پر رائے عامہ کے سامنے گھٹنے کیوں ٹیکنے پڑے اور سن دو ہزار تین میں جب میڈیا کہیں زیادہ ایڈوانس اور منہ پھٹ تھا اور اسکی چیخ و پکار پر کروڑوں لوگ دنیا بھر کی سڑکوں پر آگئے پھر بھی صدر بش اور ٹونی بلیئر کو عراق پر حملے سے کیوں نہ روکا جاسکا۔ دوسری عالمی جنگ میں تو میڈیا خاصا پسماندہ تھا۔اسی لیے جرمن کنسنٹریشن کیمپوں میں گیس چیمبرز کی خوراک بننے والے لاکھوں ہٹلر مخالف لوگوں کی نسل کشی کی خبر دورانِ لڑائی باہر نہ آسکی لیکن اب سے پندرہ برس پہلے جب بوسنیا میں سرب ملیشیا عورتوں ، بچوں اور مردوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کررہی تھی اور روانڈا کے ہوتو عین اقوامِ متحدہ کی ناک تلے آٹھ لاکھ تتسیوں کا صفایا کر رہے تھے تو میڈیا حالات پر کتنا اثرانداز ہوگیا۔
بات یہ ہے کہ بطور فرد یا گروہ ہم اکثر وہی دیکھتے ہیں جو دیکھنا چاہتے ہیں اور وہی سنتے ہیں جو سننا چاہتے ہیں اور حقیقت کے نام پر ہمیں جو بتایا یا دکھایا جاتا ہے ہم اسے چیلنج کرنے کے محنت طلب کام سے بچتے ہیں۔لہذا آج بھی حکومتیں، گروہ اور افراد تیز رفتار ملٹی میڈیا دور کے ہوتے ہوئے خام طاقت کا موثر استعمال کرکے من مانے نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہیں۔ جب انیس سو اکہتر میں مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن ہو رہا تھا تو مغربی پاکستان کے زیادہ تر صحافیوں، دانشوروں اور سیاستدانوں نے سرکاری پروپیگنڈے کو چیلنج کر کے اپنی حب الوطنی کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کیا اور دوسرے فریق کا موقف ایک مختلف تناضر میں سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ پورے مغربی پاکستان میں مرحوم وکیل غلام جیلانی، اصغر خان، ولی خان یا بائیں بازو کے اکا دکا لوگوں کے سوا زیادہ تر میڈیا اور سوچنے سمجھنے والوں نے کانوں میں روئی ٹھونس لی اور آنکھوں پر پٹی چڑھا لی۔اور غیرملکی ذرائع ابلاغ میں بھی جو کچھ آتا رہا اسے پاکستان دشمن قوتوں کا پروپیگنڈہ قرار دے کر یکسر مسترد کیا جاتا رہا۔ آج چھتیس برس بعد بھی کم وبیش یہی ہو رہا ہے۔وزیرستان اور بلوچستان سمیت کم ازکم چالیس فیصد پاکستان تک میڈیا والوں کی رسائی نہیں ہے۔اور آج بھی چاہے سرکاری میڈیا ہو یا غیر سرکاری سب کے سب شرپسند، دہشت گرد، شہید اور ہلاک شدگان جیسی اصطلاحات اندھا دھند استعمال کرتے ہیں۔ اگر میڈیا اس بات پر اتراتا ہے کہ اس نے ہم سب کو گلوبل ولیج میں لا کھڑا کیا ہے تو حکومتیں میڈیا سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔اب مخالفین کو جیل میں نہیں رکھا جاتا غائب کردیا جاتا ہے۔اب ان پر تشدد نہیں کیا جاتا بلکہ پیشہ ور اذیت پسندوں کے ہاتھوں فروخت کردیا جاتا ہے۔اب صحافیوں کو کوڑے نہیں مارے جاتے بلکہ کیبل آپریٹرز کو فون کردیا جاتا ہے۔اب حکومتیں جعلی ووٹنگ نہیں کرواتیں اپوزیشن سے جعلی امیدوار کھڑے کرواتی ہیں۔ لہذا ذرائع ابلاغ آزاد ہوتے یا نہ ہوتے سولہ دسمبر کو ڈھاکے کے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈالنے کی تقریب ہونی ہی تھی کیونکہ جو اس تقریب کو ٹال سکتے تھے وہ تو خود ملے ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں ’عدلیہ کی بحالی کے بناء انتخابات بیکار‘18 November, 2007 | پاکستان ’بحالی خیرات میں نہیں مانگتے‘05 December, 2007 | پاکستان ججز کی بحالی، کل جماعتی کانفرنس06 December, 2007 | پاکستان ’آئین بحال تو جج بھی بحال‘05 December, 2007 | پاکستان عدلیہ کی بحالی کے لیے تحریک29 November, 2007 | پاکستان گھر سے اٹھا ہے فتنہ: وسعت18 March, 2007 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||