BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 December, 2007, 09:05 GMT 14:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اللہ اللہ خیر صلا

وکلاء کا احتجاج
وکلاء نے ججوں کی بحالی کے لیے تحریک جاری رکھنے کا عزم کیا ہے
کہنے کو انتخابی سرکس میں حصہ نہ لینے کی بیسیوں وجوہات ہیں۔ جیسے اعلیٰ ججوں کی تین نومبر کی پوزیشن پر بحالی، غیر جانبدار الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کا قیام، آرمی ایکٹ میں کی گئی ترامیم کی تنسیخ ، میڈیا کی آزادی، ایمرجنسی کے تحت قائم مقدمات کا خاتمہ وغیرہ وغیرہ۔۔۔

لیکن اگر کوئی اس سرکس کا حصہ بننا چاہے تو اس کے پاس بھی بیسیوں جواز ہیں۔ جیسے انتخابی میدان حریف کے لیے کبھی کھلا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ جمہوریت کی مکمل بحالی اور عدلیہ کی آزادی کی جنگ پارلیمنٹ میں لڑنا زیادہ موثر ہوگا۔شدت پسندی کو لگام دینے کے لیے ضروری ہے کہ جمہوری عمل جیسا تیسا بھی ہو اسے آگے بڑھنا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔۔۔

یہ عجیب انتخابی عمل ہے جس میں کچھ جماعتیں اپنا احتجاج رجسٹر کرانے کے لیے بائیکاٹ کا ہتھیار استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ جبکہ کچھ جماعتیں احتجاجاً اس عمل میں حصہ لینا چاہ رہی ہیں تاکہ ممکنہ دھاندلیوں کا پول کھولا جا سکے۔ لیکن جو بھی قابلِ ذکر جماعتیں بائیکاٹ کے حق میں ہیں یا خلاف ان میں سے کسی کو بھی منہ زور عدلیہ نہیں چاہیے۔

وہ سیاسی جماعتیں جنہیں اقتدار کے کیک میں ذرا سا حصہ بھی ملنے کی امید ہے ان میں سے کون ہے جو ایک بے لگام عدلیہ برداشت کر لے گا۔

کیا ججز کالونی کے باہر مظاہرین سے خطاب کرنے والی بےنظیر بھٹو کو یہ بات کسی بھی طور منظور ہوگی کہ وہ عدلیہ کی سابقہ حیثیت کی بحالی کا علم بلند کر کے قومی مصالحتی آرڈیننس کی رعایتوں سے ہاتھ دھو لیں۔

کیا ججوں کے لیے پھول لے جانے والے نواز شریف چاہیں گے کہ اگر وہ پہلے کی طرح پنجاب یا مرکز میں برسرِ اقتدار آجائیں تو انیس سو ستانوے کے مقابلے میں کہیں آزاد عدلیہ کا وجود برداشت کرلیں۔

کیا معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری سے فون پر بات کرنے والے مولانا فضل الرحمان پسند فرمائیں گے کہ عدلیہ ویسی ہی ہوجائے جس نے حسبہ بل جیسے قوانین کو فٹ بال بنا دیا تھا۔

رہے قاضی حسین احمد اور عمران خان وغیرہ تو ان سے بیلٹ بکس کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے۔

مسلم لیگ ق نے قومی اسمبلی کے اب تک جو ٹکٹ بانٹے ہیں ان میں سے آدھے ٹکٹ جاگیردارانہ پس منظر والوں کو ملے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی نے ایک سو چودہ جاگیر داروں کو بطور امیدوار کھڑا کیا ہے اور مسلم لیگ ن کے تقسیم کردہ چھیانوے ٹکٹوں میں سے تریسٹھ ٹکٹ جاگیرداروں اور صنعت کاروں کو ملے ہیں۔

نائب امریکی وزیرِ خارجہ رچرڈ باؤچر سمیت سب جانتے ہیں کہ موجودہ سیٹ اپ کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ کوئی جماعت دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر پائے اور کوئی بھی حکومت تشکیل دے، کھیل اشرافیہ اور فوج کے ضوابط کے تحت ہی ہو۔

فوج جو اس وقت سب سے منظم سیاسی جماعت ہے اس کے نزدیک آٹھ جنوری کے انتخابات ایک روایتی جنگی مشق کے سوا کچھ نہیں۔جس میں ایک فرضی بلیولینڈ آرمی کے مدِ مقابل گرین لینڈ آرمی ہوتی ہے۔دونوں آمنے سامنے ہتھیاروں اور حربی صلاحیتوں کو پرکھتی ہیں۔اور پھر ان مشقوں کے نتیجے میں جو پیشہ ورانہ خوبیاں اور خامیاں سامنے آتی ہیں ان کے تجزیے کو مجموعی قومی فوجی حکمتِ عملی کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔

اللہ اللہ خیر صلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسی بارے میں
’آئین بحال تو جج بھی بحال‘
05 December, 2007 | پاکستان
عدلیہ کی بحالی کے لیے تحریک
29 November, 2007 | پاکستان
گھر سے اٹھا ہے فتنہ: وسعت
18 March, 2007 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد