سوال چھ پاکستانیوں کا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کا انتہائی سکیورٹی والا یہ دور دراز حراستی مرکز ایک قسم کے قانونی خلاء میں قائم ہے۔گوانتانامو، امریکہ کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی اسی کا حصہ ہے۔ تین گھنٹوں کے سفر کے بعد آپ جہاز سے اُتریں تو بتایا جاتا ہے کہ آپ کیوبا کی سرزمین پر ہیں۔ لیکن یہاں حکم فیڈرل کاسترو کا نہیں جارج بش کا چلتا ہے۔ امریکیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کیوبا سے اس کا پینتالیس سکوائر میل پر مبنی یہ خوبصورت مشرقی ساحل کوئی سو سال پہلے لیز پر لیا تھا۔ فیڈرل کاسترو کی حکومت اس دعوے کو نہیں مانتی اور یہاں امریکی فوج کے اڈے کو سامراجی قبضہ قرار دیتی ہے۔ یہ علاقہ امریکی عدالتی نظام کے دائرۂ اختیار سے باہر قرار دیا جا چکا ہے اور یہاں کوئی بین الاقوامی قانون بھی لاگو نہیں ہوتا۔ یہاں جو کچھ ہوتا ہے امریکی فوج کے اپنے نظام کے تحت ہی ہوتا ہے۔
لیکن گوانتانامو میں امریکی حکام اس قسم کی تنقید یکسر مسترد کرتے ہیں۔ گوانتانامو کے انچارچ اعلیٰ کمانڈر ریئر ایڈمرل ہیری ہیرس کہتے ہیں کہ ’ہم کسی بھی قیدی کو ضرورت سے ایک دن بھی زیادہ نہیں رکھنا چاہتے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ گو کہ دہشتگردی کے خلاف ہماری جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، پھر بھی ہم تین سو نوے سے زیادہ قیدیوں کو رہا کر چکے ہیں‘۔ فوج کے جس انتظامی طریقۂ کار کے تحت قیدیوں کو یہاں سے رہا کیا جاتا رہا ہے وہ انتظامی نظرِثانی کا بورڈ کہلاتا ہے۔ بورڈ امریکی فوج کے تین سینئر فوجی اور انٹیلیجنس حکام پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس انتظامی بورڈ کی کارروائی میں وکلاء کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ بورڈ میں سُنوائی کے دوران امریکی فوج کی نمائندگی ایک فوجی کرتا ہے جبکہ قیدی کی نمائندگی بھی فوج ہی کا ایک افسر کرتا ہے۔
گوانتانامو میں انتظامی بورڈ کے انچارج کیپٹن گیری ہیبن تسلیم کرتے ہیں کہ پچھلے سال صرف بیس فیصد قیدیوں نے ہی بورڈ کے سامنے پیش ہونے کی زحمت گوارا کی۔ کیا اس سے باقی دنیا کی طرح قیدیوں کا بھی اس متنازعہ طریقہء کار پر عدم اعتماد ظاہر نہیں ہوتا؟ یہاں فوجی حکام اس پر کچھ کہنے سے گریزاں ہیں۔ ان کی نظر میں فوج کے انتظامی بورڈ کی سب سے بڑی افادیت یہ ہے کہ اسی طریقہء کار کی بدولت حکام ہر سال یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کسے حراست میں رکھنے کی ضرورت ہے اور کس کو رہا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن انسانی حقوق کے وکلاء کا کہنا ہے کہ فوج کےانتظامی بورڈ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ وکلاء کے نزدیک، گوانتانامو میں قیدیوں کو انصاف کی کوئی توقع نہیں اسی لیے قیدیوں کی بڑی اکثریت اس قسم کی یک طرفہ فوجی کارروائی کا حصہ بننے کی بجائے اس کا بائیکاٹ کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔ انسانی حقوق کے وکلاء کا یہ بھی کہنا ہے کہ گوانتانامو سے قیدیوں کی رہائی میں فوج کے انتظامی بورڈ کا اتنا عمل دخل نہیں جتنا سفارتی دباؤ اور سیاسی محرکات کا۔
ناقدین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ پچھلے پانچ برس کے دوران یورپ میں امریکہ کی اتحادی حکومتیں گوانتانامو میں قید اپنے تمام باشندوں کو رہا کرا کر واپس لے آئی ہیں۔ اسی طرح آسٹریلوی حکومت کے مسلسل زور پر آسٹریلیا کے ڈیوڈ ہکس گوانتانامو کے وہ پہلے قیدی بنے ہیں جن پر امریکی حکام نے خصوصی فوجی عدالت میں مقدمہ چلا کرسزا سنائی اور اب جلد ہے انہیں گوانتانامو سے آسٹریلیا روانہ کر دیا جائے گا۔ لیکن دہشتگردی کے خلاف امریکی لڑائی میں بڑے اتحادی تو پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف بھی ہیں۔ حکومتِ پاکستان کے مطابق، گوانتانامو سے اب تک باسٹھ پاکستانی رہا ہو واپس پاکستان آ چکے ہیں۔ چھہ پاکستانی آج بھی گوانتاناموں کے قیدخانوں میں بغیر سزا کے قیدِ تنہائی میں پڑے ہوئے ہیں۔ پاکستانی وزارتِ داخلہ کے بریگیڈئر جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ’ہم امریکی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں اور بقیہ چھہ پاکستانیوں کی گوانتانامو سے رہائی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ انشااللہ وہ جلد رہا کرا لیے جائیں گے‘۔ اگر گوانتانامو سے رہائی میں اتحادی ممالک کےسفارتی دباؤ کا ہی بڑا عمل دخل ہوتا ہے تو گوانتانامو کے قید خانوں میں پاکستانیوں کی بدستور موجودگی صدر بش اورجنرل مشرف کے تعلقات کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟ یہ ایک کھلا سوال ہے۔ | اسی بارے میں گوانتانامو کے چودہ قیدیوں پر مقدمہ09 March, 2007 | آس پاس مشتبہ قیدی دشمن جنگجو ہیں؟10 March, 2007 | آس پاس امیدوں کے پودے مُرجھا رہے ہیں16 March, 2007 | آس پاس گوانتانامو، شگوفے، شاعری اور ہیری08 April, 2007 | آس پاس ’جہاں اللہ اللہ کرنے کے سوا کچھ نہ ہو‘12 April, 2007 | آس پاس ’زبردست‘ کھانوں پر بھی بھوک ہڑتال؟10 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||