BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 November, 2006, 23:53 GMT 04:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ: سب سے زیادہ کِس کا چرچہ؟

بورات
فلم ’بورات: کلچر لرننگ آف امیریکا میک بینیفٹ آف گلوریئس نیشن آف قازخستان‘ نےامریکہ میں کھڑکی توڑ ہجوم کھینچے ہیں
آجکل پورے امریکہ کے ہر گھر میں ایک ہی فلم اور اس کے مرکزی کردار بوراٹ کا چرچہ ہے۔ یہاں تک کہ پاکستانیوں اور ہندستانی امریکیوں میں بھی۔

گزشتہ اختتام ہفتہ میں لاس اینجلس کے قریب پروفیشنل پاکستانی اور ہندستانی مردوں اور خواتین کی ایک پارٹی میں تھا اور وہاں بھی زیر بحث موضوعات میں پہلے نمبر پر ’بورات‘ دوسرے نمبر پر مختار مائی اور تیسرے نمبرپر بلوچستان تھے۔

واقعی ’بورات‘ بڑی بات ہے۔ سارے خواتین و حضرات فلم کے سین اور مکالمے یاد کرکے ہنسی میں لوٹ پوٹ جاتے اور کچھ تو میری طرح کھانسی میں ڈوب جاتے۔ دیسی بیویوں نے بھی اپنے شوہروں کے ساتھ اور بوائے فرینڈوں نے گرل فرینڈوں کے ساتھ یہ فلم دیکھی۔

اس فلم نے جس کا نام ’بورات: کلچر لرننگ آف امیریکا میک بینیفٹ آف گلوریئس نیشن آف قازخستان‘ ہے امریکہ کے سینیما گھروں میں، بقول شخصے کھڑکی توڑ ہجوم کھینچے ہو‎ئے ہیں۔ شاید گزشتہ عشرے کی یہ سب سے بڑی کامیڈی فلم ہے جس نے فلمی تاریخ میں فلم کی صنف ہی بدل ڈالی ہے- اپنے پر آنیوالی آٹھارہ لاکھ ڈالر کی لاگت نکال کر اس فلم نے چھبس اعشاریہ چار لاکھ کی ٹکٹیں بیچی ہیں یعنی’ریکارڈ توڑ کھڑکی توڑ‘ نمائش جاری رکھی ہوئی ہے۔

برطانوی کامیڈین اداکار شاسا بیرن کوہن نے اس فلم میں قازقستان کے ٹی وی صحافی کے طور پر مرکزی کردار کا ادا کیا ہے جو قازقستان سے امریکی ثقافت اور زندگی کو رپورٹ کرنے کے لیے پورے ملک کی سیاحت پر اس ملک سے آتا ہے جہاں بقول ’بورات‘ خانہ بدوشوں کی پٹائی کی جاتی ہے، تمام ہم جنس پرستوں کے لیے نیلی ٹوپی پہننا ضروری ہے اور عورتیں پنجروں میں بند ہوتی ہیں! ’بورات‘ نے ننگی فلموں کے اداکار ہوئی لوئیس کو فلم میں بیٹا بنایا ہوا ہے۔

’اس سے ملیں یہ میری بہن ہے، پورے قازقستان میں تیسرے نمبر پر مشہور طوائف، یہ کپ بھی اس نے جیتا ہوا ہے اور یہ میری بیوی ہے جو کہتی ہے وہ میرا عضو تناسل کاٹ دے گی اگر میں نے کسی اور عورت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا‘۔

سب کہہ اور دکھا دیا گیا
 زیر ناف بالوں، بندروں کی پوری فلم بنانا اور یہودیوں کو کنووں میں پھنک دینا وہ باتیں ہیں جس سے اس فلم نے دنیا میں سنسر کی ایسی کی تیسی کی ہوئی ہے۔ ہر وہ بات جو متعصبانہ اور ’ممنوعہ‘ ہوسکتی ہے بورات نے فلم بین کی آنکھوں اور کانوں کے لیے ناقابل اعتبار حد تک دکھائی اور سنائی ہے
بورات کا ٹی وی پر اس کی تصویر دیکھ کر امریکہ میں مقصد ادکارہ پامیلا اینڈرسن سے شادی کرنا ہوجاتا ہے۔

زیر ناف بالوں، بندروں کی پوری فلم بنانا اور یہودیوں کو کنووں میں پھنک دینا وہ باتیں ہیں جس سے اس فلم نے دنیا میں سنسر کی ایسی کی تیسی کی ہوئی ہے۔ ہر وہ بات جو متعصبانہ اور ’ممنوعہ‘ ہوسکتی ہے بورات نے فلم بین کی آنکھوں اور کانوں کے لیے ناقابل اعتبار حد تک دکھائی اور سنائی ہے-

برطانوی کامیڈین اداکار شاسا بئرن کوہن کے نقاد کہتے ہیں کہ وہ اپنے کرداروں کی آڑ لے کر باتیں کہہ جاتا ہے- یہودی ہوں (اگر چہ وہ خود ایک پکا یہودی ہے)، کہ ہم جنس پرست، افریقی امریکی نژاد سیاہ فام لوگ، عورتیں اور فیمنسٹ، گورے لوگ، معذور کہ ذہنی معذور، ریپبلیکن کہ ڈیمو کریٹ وہ ہر کسی کو اپنی جگت کا نشانہ بناتا ہوا نظر آتا ہے- ایسی جگتبازی تو ہمارے خطوں میں مراثی، ٹھٹ اور بھٹ چاہے عام لوگ بھی گالی گلوچ یا ہنسی مزاح میں کرتے رہتے ہیں-

لندن میں کووینٹ گارڈن سے بریک ڈانس سے لے کر اپنے شو ’ڈا علی جی‘ اور ’برونو‘ کی وجہ سے برطانیہ میں مشہور یہ ادکار اپنی فلم بورات کی وجہ سے امریکہ میں ایک طوفان لے آیا ہے۔ ساڑھے چار سو گھنٹوں کی شوٹنگ ایڈیٹنگ کے بعد تراسی منٹوں والی اس فلم میں سامنے آئی ہے۔

’امریکیو! ہم قازقستان کے لوگ تمہاری وار آف ٹیرر کی حمایت کرتے ہیں- ہم جارج بش کی اس بات کی بہت حمایت کرتے ہیں وہ عراق میں تمام بچوں کا خون پینا چاہتا ہے‘- بورات فلم کے ایک سین میں روڈیو کے میدان میں تماشائیوں سے لاؤڈ سپیکر پر یہ بات کہتا ہے۔

شاسا بیرن کے منہ پر نیویارک میں ایک شخص نے کئي گھونسے مارے جب اس نے ایک کلب کی کار پارکنگ میں اس شخص کو روک کر بورات کے مخصوص انداز میں کہا ’مجھے تمہارا سوٹ پسند آیا- ویری نائيس۔ کیا میں اسے سے سیکس کر سکتا ہوں‘-

قازقستان کی حکومت نے بورات پر سخت احتجاج کرتےہوئے فلم کے ڈائریکٹر (فلم 'شینفیلڈ‘ والے لیری چارلس) اور ادکار شاسا بیرن پر مقدمہ قائم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے جس سے اب بورات کی ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں۔

لیکن شاسا بیرن نے بورات کے کردار میں واشنگٹن ڈی سی میں قازقستان کے سفارتخانے کے باہر پریس کانفرنس کی تھی اور واشنگٹن ڈی سی کی پریس کور کے ساتھ وہ آئيس کریم ٹرک چلاتا ہوا وائٹ ہاؤس کے گیٹ پر یاد داشت دینے آیا کہ صدر بش قازقستان کے صدر سے ملاقات کے دوران قازقستان کا مسئلہ اٹھائيں تو سیکریٹ سروس والے اس کی طرف آئے۔ ’تم لوگ کس ادارے سے تعلق رکھتے ہو؟‘ ’سیکریٹ سروس سے‘ انہوں نے جواب میں کہا- ’وہ کیا ہے، کیا یہ تنظیم کے جی بی کی طرح کی ہے؟‘ بورات نے ایجنٹوں سے کہا۔ کہتے ہیں اب صدر بش نے بھی بورات پر بریفنگ لی ہوئی ہے۔

’یہ خود سے نفرت کرنیوالا یہودی ہے‘، پاکستانی و ہندستانی خواتین وحضرات کی اس محفل میں کسی نے کہا۔ کسی نے کہا کہ مسلمانوں پر اس کی فلم بنانے کی باری کب آئے گی؟ میں نے سوچا اسرائیل میں رش کھینچنے والی اس فلم جیسی کوئي فلم کیا کوئی مسلمان ڈائریکٹر مسلمانوں پر بنائے گا کہ نہیں! اگر بنائی تو سب سے زیادہ پھڈا فساد ہمارے ہی ملکوں میں ہوگا جیسے کارٹونوں پر ہوا تھا- ابھی کسی نے انٹر نیٹ پر ایک سندھی لسٹ پر بینظیر بھٹو کی زمانہء طالب علمی کی تصویر پوسٹ کرنیوالے کی رکنیت ہی بین کردی ! ایک دیسی انگریزی اخبار ’دس پردیس‘ میں جعلی اور اصلی کے بحث کے بیچ وہ تصویر چھپی تھی۔ کسی نے کہا کہ وہ تصویر پاکستانی سفارتخانے کی ایما پر چھپی۔

اس سے کچھ گھنٹے قبل میں اور میرا ایک دوست میلیبو سے آرہے تھے تو اس نے کہا ’یہ وہ جگہ ہے جہاں اداکار میل گبسن کو شراب پی کر گاڑی چلانے پر گرفتار کیا گیا تھا‘- اور پھر بات اسے گرفتار کرنیوالے پولیس والوں کو میل گبسن کی یہودیوں کے خلاف جلی کٹی سنانے سے لے کر ’امریکی پالیسیوں پر یہودیوں کے اثر کی تھیوری‘ سے ہوتی ہوئی حال میں ہونے والے الیکشن اورسال دو ہزار آٹھ کے صدارتی انتخابات پر جا پہنچی۔ ہلری کلنٹن، اور الینوائے کے افریقی امریکی سینیٹر بوراک اوبامہ کی متوقع امیدواری پر میرے دوست نے کہا کہ ’شاید اب بھی امریکہ میں کالے یا عورت کو صدر چننے میں کئی سال درکار ہوں'-

ہم اس وقت خوبصورت پیسفک کوسٹ ہائی وے کے قریب پہاڑوں پر سے گزر رہے تھے جن کی اترائی میں نیلگوں پیسفک سمندر تھا جس میں ڈوبتے سورج کو ’مون شیڈو‘ کہا جاتا تھا۔ ’یہاں رہنے، کام کرنیوالے اور اس بار میں آنیوالے نوے فیصد مرد اور عورتوں کا خواب ہالیووڈ ہے‘ میرے دوست نے کہا-

اسی بارے میں
دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں
02 June, 2006 | قلم اور کالم
خط، جنرل اور’تار‘
27 July, 2006 | قلم اور کالم
نیا قبیلہ اور سردار
02 September, 2006 | قلم اور کالم
'دار کی خشک ٹہنی پہ۔۔۔۔'
08 October, 2006 | قلم اور کالم
حسن کا مکتوبِ امریکہ
11 May, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد