انقلابی دولت اورنئی دنیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایلون ٹوفلر اور ہیڈی ٹوفلر دنیا کے بدلتے ہوئے رجحانات کا تجزیہ کرنے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی کتابیں ’تھرڈ ویو‘ اور ’فیوچر شوک‘ خاصی مشہور ہوئیں۔ اب انہوں نے ’ریوولوشنری ویلتھ‘ (انقلابی دولت) کے عنوان سے اپنی تازہ کتاب (اشاعت سنہ دو ہزار چھ) میں اسی موضوع کو اور آگے بڑھایا ہے۔ ٹوفلر کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ انیس سو پچاس کی دہائی سے دنیا میں دولت پیدا کرنے کا ایک نیا نظام وجود میں آچکا ہے جو صنعتی انقلاب سے مختلف ہے اور اس نئی معیشت کی قیادت امریکہ کررہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دولت پیدا کرنے کے نئے نظام سے پوری دنیا کی تہذیب و تمدن تبدیل ہوجائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام کی ابتدا انیس سو چھپن میں ہوگئی تھی جب پہلی بار امریکہ میں وائٹ کالر کارکنوں کی تعداد بلیو کالر محنت کشوں سے زیادہ ہوگئی تھی۔ انیس سو پچاس کی دہائی میں ہی ٹیلی ویژن عام ہوا اور پینٹا گون میں انٹرنیٹ کے پیش رو نظام ایپرا نیٹ پر کام شروع کیا گیا۔ ٹوفلر کی ساڑھے چار سو صفحوں پر مشتمل کتاب میں امریکہ میں کمپیوٹر اور کمیونیکیشن کی ٹیکنالوجی میں ترقی سے ہونے والی تبدیلیوں پر تفصیل سے بحث کی گئی ہے اور ان کے نتیجہ میں طرز زندگی، معیشت اور کاروبار کے طریقوں میں آنےوالی تبدیلیوں اور ان کے مضمرات پر بحث کی گئی ہے۔ جس چیز کوکارل مارکس کے ہاں آلات پیداوار اور ذرائع پیداوار کہا جاتا ہے، ٹوفلر اسے ٹیکنالوجی اور دولت پیدا کرنے کے نظام کی اصطلاحوں کانام دیتے ہیں۔ مارکس کہتے تھے کہ ذرائع پیداوار سے معاشرہ کا سپر سٹرکچر یا دیگر تمام پہلو متعین ہوتے ہیں۔ بالکل یہی بات ٹوفلر کرتے ہیں کہ دولت پیدا کرنے کے اس نئے نظام سے زندگی کا ہر شعبہ تبدیلی سے دوچار ہوگا جو ناقابل واپسی ہوگی۔ مارکس نے بھی کہا تھا کہ سرمایہ داری کی ترقی پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں آجائے گی، ٹوفلر کا بھی استدلال ہے کہ امریکہ میں وجود میں آنےوالے اس نئے نظام کی وجہ سے پوری دنیا میں پہلے سے موجود سیاسی اور مالی مفادات خطرہ سے دوچار ہیں۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی سے جو ایجادات عام استعمال میں آئی ہیں، بعض امریکی مصنفین ان کے زبردست مداح ہیں جیسے نیویارک ٹائمز کے تھامس فرائڈ مین جنہوں نے ’دنیا چپٹی ہے‘ کے عنوان سے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے بدلتی ہوئی دنیا کی توصیف میں ایک کتاب بھی لکھی ہے۔ ٹوفلر نے یہی کام نسبتاً گہرائی اور وسیع تناظر میں کیا ہے۔ وہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے وجود میں آنے والی معیشت اور پوری دنیا میں کثیر قومی کمپنیوں کے پھیلتے ہوئے کاروبار اور عالمی تجارت کو ایک باوقار لبادہ میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ وہ سرمایہ داری نظام کے مختلف پہلؤوں کی نئی اور خوش نما اصطلاحات استعمال کرکے وضاحت کرتے ہیں جیسے پروزیومنگ (اجرت لیے بغیر کام کرنا جیسے بچے پالنا) سنکرونائزیشن (پیداوار اور کاروبار کےمختلف شعبوں کی ہم آہنگی اور ربط) وغیرہ وغیرہ۔ ان کا نظریہ ہے کہ دولت پیدا کرنے کے نئے نظام میں وقت، فاصلہ اور علم تین بنیادی چیزوں کی نوعیت اور استعمال میں انقلابی تبدیلی آگئی ہے۔ اس نئی معیشت میں مینوفیکچرنگ سے زیادہ خدمات کی اہمیت ہے۔ ٹوفلر کا خیال ہے کہ دولت پیدا کرنے کے نئے نظام میں علم سب سے اہم چیز ہوگئی ہے اورنئی معیشت علم پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صنعتی دور کے برعکس نیا دور یک رنگی پر مبنی ماسیفیکیشن کی بجائے تنوع پر مبنی ڈی ماسیفیکیشن کا اور سب کے لیئے ایک جیسی چیزوں کی بجائے کسٹمائزڈ چیزوں کا دور ہے۔
یہ بات تو عام طور پر جانی جاتی ہے کہ دنیا میں پیداواری عمل اب ہائی ٹیک ہوگیا ہے اور ناخواندہ اور غیر تعلیم یافتہ محنت کشوں کے لیے گنجائش کم رہ گئی ہے۔ ٹوفلر اسی بات کو نئے انداز میں بہت سے اعدا وشمار اور مثالوں کے ذریعے پیش کرتے ہیں۔ ٹوفلر کا کہنا ہے کہ نئے نظام کی وجہ سے کاروبار چلانے کے انتظام میں اب سخت درجہ بندی اور بے لچک قواعد کی جگہ لچک، مل جل کر کام کرنے اور ٹیم ورک نے حاصل کرلی ہے۔ ان کے الفاظ میں یہ مینجمنٹ کی نسائیت (فیمی نائزیشن) ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب کمپنیاں صرف چیزیں نہیں بلکہ اپنے برانڈز میں خیالات، عقائد اور احساسات اور جذبات بیچ رہی ہیں۔ تھامس فرائڈ مین کی کتاب کی طرح ٹوفلر نے بھی امریکہ کی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ اس کی کمزوریوں کا رونا بھی رویا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ کی قیادت کو خطرہ درپیش ہے کیونکہ امریکہ میں ریاضی، انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنسز کےمضامین میں نصف پی ایچ ڈی کی ڈگریاں بیرون ملک سے آئے ہوئے طالبعلم حاصل کرتے ہیں۔ وہ امریکہ کے خاندانی نظام کی تباہی کو بھی اندرونی خطرہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ میں نصف شادیوں کا انجام طلاق کی صورت میں نکلتا ہے۔ امریکہ کے اکتیس فیصد بچے تنہا صرف ماں یا باپ میں سے ایک کے ساتھ رہتے ہیں اور پینسٹھ سال سے زیادہ عمر کے تیس فیصد امریکی اکیلے زندگی بسر کرتے ہیں۔ ٹوفلر کا کہنا ہے کہ امریکہ کا پبلک اسکول کا نظام صنعتی دور میں اس کی ضروریات کے مطابق کارخانوں کی طرز پر تشکیل دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ہر روز پانچ کروڑ بچے ایسے اسکولوں میں جاتے ہیں جن کا تعلیمی نظام ٹوٹ پھوٹ چکا ہے۔ ان کے خیال میں اسی طرح امریکہ کی حکومت کا ڈھانچہ، توانائی کا نظام اور ٹرانسپورٹیشن کا ڈھانچہ بھی فرسودہ ہوچکے ہیں۔
ٹوفلر کا کہنا ہے کہ صنعتی دور میں ایجاد کی گئی کرنسی اب غائب ہوتی جارہی ہے اور کچھ عرصہ کے بعد یہ عجائب گھر میں رکھنے کی چیز بن جائے گی۔ اس کی جگہ عالمی تبادلہ اشیا کی تجارت (بارٹر) اور انفرادی سطح پر کارڈز کے ذریعے ادائیگی نے لے لی ہے۔ ٹوفلر نے یورپ کے بارے میں لکھا ہے کہ اس کا امریکہ سے تصادم صرف عراق پر نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپ دولت پیدا کرنے کے نئے نظام کا ساتھ نہیں دے پا رہا اورنئی تبدیلیوں سے خود کو ہم آہنگ نہیں کرسکا۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپ کے لوگ تیز رفتار دنیا کا ساتھ دینے کی بجائے پرسکون اور کم رفتار والی جگہوں کی تلاش میں ہیں۔ یورپ کے لوگ ہائی ٹیک ملازمتوں کی بجائے کم ٹیکنالوجی کی ملازمتوں کے متلاشی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپ تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) پر خاطر خواہ سرمایہ کاری نہیں کررہا۔ وہ کہتے ہیں کہ جہاں نئی دنیا میں یک رنگی کی بجائے تنوع پر زور دیا جارہاہے ہے یورپی یونین اس رجحان کے برعکس ہر چیز کو یک رنگی میں ڈھالنے کی کوشش کررہی ہے۔ اسی طری ٹوفلر کے خیال میں جاپان کی کمپنیاں اور حکومت بھی دولت پیدا کرنے کے اس نئے نظام سے مطابقت پیدا نہیں کرسکیں اور جاپان کا ڈھانچہ بے لچک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جاپان کو ترقی کرتے رہنے کے لیئے مینجمنٹ اور کاروبار کے نئے طریقوں کو اپنانا ہوگا اور برآمدات پر اپنا انحصار کم کرنا ہوگا۔ ٹوفلر خاصے خوش فہم مستقبل بین ہیں اور اپنے تخیل کو بے لگام چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والا وقت نینو ٹیکنالوجی اوراس سے بھی آگے پیکو، فیمٹو، ایٹو، اور زیپٹو ٹیکنالوجی کا دور ہوگا۔ ٹوفلر کا خیال ہے کہ علم پر منحصر نئی معیشت انسان کی آزادی میں اضافہ کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ دولت پیدا کرنے کے نئے نظام میں ٹیکنالوجی کا رنگ زیادہ غالب نظر آتا ہے کیونکہ اس میں سامنے آنے والی ٹیکنالوجی بہت عظیم الشان ہے ورنہ یہ پورے تمدن کو تبدیل کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نئے دور میں معیشت کے ساتھ ثقافتی شناخت، مذہب اور اخلاق بھی انسانی زندگی میں مرکزی اہمیت کے حامل ہوں گے۔ ایلون ٹوفلر اور ہیڈی ٹوفلر نے اپنی کتاب کے ذریعے دنیا اور خاص طور سے امریکہ میں آنے والی معاشی اور معاشرتی تبدیلیوں سےمتعلق بکھری ہوئی معلومات کو ایک جگہ اکٹھا کرکے اسے ایک معنی دینے کی کوشش ہے۔ ان کا نقطہ نظر نئی معیشت اور عالمگیریت (گلوبلائزیشن) کی تعریف و تحسین پر مبنی ہے۔ |
اسی بارے میں ’امریکہ کی خفیہ جنگ‘15 April, 2006 | پاکستان امریکہ اور تیل کی سیاست10 March, 2006 | پاکستان جمہوریت: پاک بھارت تفریق 18 January, 2006 | پاکستان امریکی سلطنت کا عروج و زوال26 July, 2005 | پاکستان اُردو، پنجابی: حروفِ تہجی کا مسئلہ27 September, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||