خوابِ خرگوش سے بیداری کا اشارہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ُبہت سال بعد یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ 11/9 پر دہشت گردی کے دہائی نہیں دی جائے گی۔ امریکی میڈیا کے گرو گھنٹال نام نہاد حب الوطنی کے نام پر دنیا کو فتح کرنے کے جواز پیش نہیں کریں گے اور شاید امریکی فوج کی کمزوریوں کو دور کرنے کی بجائے بڑھتی ہوئی غربت کا ذکر کر گزریں۔ فطرت نے ایک مرتبہ پھر دنیا کی اکلوتی سپر پاور کو خواب خرگوش سے جگانے کی کوشش کی ہے اور تھوڑا سا اشارہ دیا ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی تباہ کن طاقت نہیں ہے۔ امریکی میڈیا پر یہ بحث کئی دنوں سے چل رہی ہے کہ بش انتظامیہ قطرینہ سے نیو آرلینز کی تباہی کے موقع پر کیوں سوئی ہوئی تھی؟ کانگرس اور سینٹ تحقیقاتی کمیشن کے ذریعے معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ امریکہ کی سب ایجنسیاں طوفان کے پہلے پانچ دن کہاں تھیں؟ ظاہر بات ہے کہ اس سوال کا جواب متعلقہ محکموں کے انتظامی امور کی خامیاں تلاش کر کے دیا جائے گا۔ اس پہلو پر کوئی بھی غور نہیں کرے گا کہ اب امریکی سلطنت کی سیاسی جہت ایسی ہو چکی ہے کہ اس کے لیے فوجی طاقت بڑھانا بنیادی فرض بن گیا ہے اور شہریوں کی حفاظت کرنا یا ان کو سہولتیں فراہم کرنا ثانوی سا کام رہ گیا ہے۔ اس سوال کا ایک جواب تو پال کینیڈی نے اپنی کتاب ’بڑی طاقتوں کے عروج و زوال’ میں دیا تھا جو 1989 میں سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں میں شمار ہوتی تھی۔اس کتاب میں مصنف نے حقائق سے یہ ثابت کیاتھا کہ جب بھی کسی بڑی طاقت کا زوال شروع ہوتا ہے اس کے فوجی اخراجات اور فوجی مہموں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ماضی کی بہت سی بڑی سلطنتیں اپنی قومی آمدنی کا بہت بڑا حصہ دفاع پر خرچ کر کے کھوکھلی ہوگئیں اور آخر میں مٹ گئیں۔ اس نظریے کے مطابق امریکہ بھی اسی راستے پر چل رہا ہے۔ پال کینیڈی نے رومی، ایرانی، یونانی اور عثمانی سلطنتوں کے علاوہ برطانیہ اور روس سمیت سب بڑی طاقتوں کے بارے میں اعدادوشمار پیش کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب کوئی طاقت عروج کی طرف رواں ہوتی ہے تو اس کی قومی آمدنی کا زیادہ حصہ ترقیاتی منصوبوں اور سماجی ضرورتوں پر خرچ ہو رہا ہوتا ہے لیکن جب اس کے زوال کا وقت آتا ہے تو فوجی اخراجات قومی آمدنی کا بہت سا حصہ کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ مصنف نے اس کی تازہ ترین مثال روس کی دی ہے جو کہ فوجی اعتبار سے دنیا کی دوسری بڑی طاقت تھی لیکن اپنی قومی آمدنی کا زیادہ حصہ دفاع پر خرچ کر دیتا تھا۔ سوویت یونین کا زوال بھی تب شروع ہوا تھا جب اس نے ترقیاتی منصوبوں اور سماجی ضرورتوں کو پس پشت ڈال کر مضبوط دفاع کو ترجیح دینی شروع کی تھی۔ اس کی فوجی طاقت تو بڑھتی گئی لیکن اس کا سماجی نظام کھوکھلا ہوتا گیا اور آخر میں ریت کا گھروندہ ثابت ہوا۔ مصنف کا کہنا ہے کہ برطانوی سلطنت کے ساتھ بھی آخر میں یہی ہوا تھا اور ترکوں کی خلافت عثمانیہ کا بھی یہی مقدر بنا تھا۔ امریکہ میں فوجی مہم جوئی اور دفاعی برتری کا رجحان تو ہمیشہ سے رہا ہے لیکن سوویت یونین کے زوال کے بعد یہ رجحان قومی عارضہ بن چکا ہے۔ اس عارضے کو 11/9 نے مستقل روگ میں تبدیل کر دیاہے۔ اب سلطنت امریکہ دن رات فوجی کارروائیوں اور دہشت گردوں کی ممکنہ جوابی کارروائیوں کی فکر میں غلطاں رہنے لگی ہے۔ قومی دولت کا بہت بڑا حصہ اس پر صرف ہونے لگا ہے کہ آلو پیدا کرنے والی ایڈاہو ریاست کے دور دراز گاؤں کے زرعی فارم کو دہشت گردوں سے کیسے محفوظ کیا جائے۔ میامی اور نیو آرلینز جیسے بڑے شہروں کو طوفانوں کی تباہی سے بچانا نہ تو قومی ایجنڈے پر ہے اور نہ ہی صوبائی اور مقامی انتظامیہ کی سوچ کا حصہ ہے۔ یہ ہے وہ ذہنی تناظر جس میں امریکی دارالسلطنت میں وائٹ ہاؤس اور کیپیٹل ہل سے چند بلاک ادھر رہنے والے غریب سیاہ فام کسی کو نظر نہیں آتے۔ شہر میں بے خانماں لوگوں کی فوج ظفر موج پر کسی کی نظر نہیں پڑتی لیکن یہ فکر سب کو کھائے جاتی ہے کہ اگر کوئی دہشت گرد واشنگٹن کے دریائے پوٹامک میں زہر کی پڑیا ملا دے تو اس کا کیسے سد باب کیا جائے گا۔ 11/9 کے بعد امریکہ میں دہشت گردی کی کوئی بھی بڑی واردات نہیں ہوئی۔البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ غریبوں کی تعداد میں کئی لاکھ کا اضافہ ہوا ہے اور کروڑوں امریکی صحت کی سہولتوں سے تہی دست ہوئے ہیں۔پورا پورا خاندان سارا دن کام کرتا ہے اور پھر بھی غربت کی زندگی گزارتا ہے۔ حال ہی میں شائع سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف 2003اور 2004کے درمیان امریکہ میں مزید پینتالیس لاکھ لوگ غربت کی زندگی میں دھکیلے گئے ہیں۔ اتنے ہی لوگ صحت کے نظام سے فارغ کر دیے گئے ہیں۔ اس کے باوجود کسی کو اس شہر کے غریب نظر نہیں آتے تھے۔ قطرینہ کی طوفانی ہواؤں نے امریکہ کے چہرے سے جب نقاب اٹھایا ہے تو اس کے اندر دنیا کو کئی بنگلہ دیش نظر آئے اور جائز طور پر بنگلہ دیشی ماہرین ٹی وی پر امریکنوں کو سمندری طوفانوں سے محفوظ رہنے کے طریقے سر عام سکھا رہے ہیں۔ باہر کی دنیا کو اب بھی اندازہ نہیں ہے کہ امریکہ کے اندر کتنے بنگلہ دیش اور غریب افریقی ملک بس رہے ہیں۔ کیا نیو آرلینز کے المیے کے بعد امریکہ انسانی ضرورتوں پر زیادہ توجہ دے گا؟ اس کے امکانات کافی کم ہیں کیونکہ جو سلطنت زوال پذیر ہوتے ہوئے فوجی مہمات میں الجھ جائے وہ اپنا راستہ بدل نہیں پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فوج اور نیشنل گارڈ جو چند روز پہلے تک طوفانی علاقے سے چند میل دور تاش کے کھیل میں مصروف تھے اب اس موقع کو نئی بھرتی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ عوام کو تحفظ دینے کے عمل کو بھرتی کا اشتہار بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ عراق کی جنگ میں بڑھتی ہوئی اموات کی وجہ سے امریکی فوج میں نئی بھرتی ضرورت سے بہت کم ہو گئی تھی۔ اب فوج نیو آرلینز میں انسانی ہمدردی کے کام کو ایسے پیش کر رہی ہے کہ جیسے فوج میں بھرتی ہونے سے ہی انسانی ضرورتیں پوری ہو سکتی ہیں۔ یعنی آخرکار نیو آرلینز کا المیہ بھی فوجی مہم جوئی کا حصہ بن گیا ہے۔ زوال پذیر سلطنتوں کو کبھی بھی اپنی تنزل کی آگاہی نہیں ہوتی۔۔وہ تو صرف تاریخ دانوں کی بعد از وقت دانشوری میں اپنا اظہار پاتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||