نصرت جہاں بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن |  |
 |  بڑے ستاروں کے ساتھ جاندار کہانی بھی ضروری ہے |
کیا بالی ووڈ کے بڑے بڑے ستارے اس وقت گردش میں ہیں یہ خیال یا یوں کہئے کہ سوال اس وقت اکثر لوگوں کے ذہن میں ہے کیونکہ پچھلے کچھ عرصے میں بڑے بڑے ستاروں کی بڑی بڑی بجٹ والی فلمیں یا تو باکس آفس پر کوئی کمال نہیں دکھا سکیں یا پھر منھ کے بل گرتی نظر آئیں ۔ مثال کے طور پر کرینہ کپور اور اکشے کپور کی ’بے وفا‘ نے کوئی خاص کمال نہیں دکھایا اور لگ رہا ہے سلمان خان کی ’لکی‘ میں بھی قسمت کوئی خاص ساتھ نہیں دے رہی یعنی فلم سے جس طرح کی توقعات وابستہ کی گئی تھیں وہ پوری ہوتی دکھائی نہیں دے رہیں کیونکہ وہ شائقین میں اپنے لیے کشش پیدا نہیں کر سکی۔ اس کے علاوہ سنجے دت اور ایشوریہ کی ’شبد‘ کے لئے ہمارے پاس الفاظ نہیں ہیں اور وویک اوبرائے کی’ کسنا ‘ کا کیا کہنا، معاف کیجئے گا اس فلم کو سبھاش گھئی کی فلم کسی صورت نہیں کہا جا سکتا ’کسنا‘ تو صرف وویک بابا کی فلم تھی۔ اب آنے والی فلموں میں وپل شاہ کی امیتابھ بچن، اکشے کھنہ اور پرینکا چوپڑہ کے ساتھ فلم ’وقت‘ اور کرن جوہر کی فلم’ کال‘ ہے جس میں شاہ رخ خان نے ایک گیسٹ رول کیا ہے جبکہ اہم کردار میں وویک اوبرائے ، جان ابراہم ، اجے دیو گن، لارا دتہ اور ایشا دیول ہیں۔ فلم میں شاہ رخ خان کے گیسٹ رول سے فلم کی اچھی شروعات کی امید کی جا رہی ہے لیکن حالیہ ٹرینڈ سے کیا یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ بڑے اسٹار کے علاوہ فلم میں کہنے کے لئے کہانی بھی ہونا ضروری ہے جیسا کہ مدھر بھنڈارکر کی فلم ’پیج تھری ‘جو بغیر بڑے اسٹارز کے کامیاب رہی ہے۔  |  سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے |
وویک اوبرائے کے ذکر سے یاد آیا کہ سونامی طوفان کے متاثرہ لوگوں کی مدد انہوں نے جس طوفانی انداز میں شروع کی تھی، اماں یعنی جے للتا نے اس کی ہوا نکال دی اور وویک بابا کی عزت کا یہ کہہ کر کچرا کر دیا کہ انہوں نے کام کم اور پبلسٹی زیادہ کی تھی۔ویسے اماں نے کچھ غلط تو نہیں کہا لیکن وویک بھی کیا کریں اپنی عادت سے مجبور ہیں کبھی وہ سلمان اور ایشوریہ کی محبت میں اٹھنے والے طوفان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی اپنی ٹانگ ٹوٹنے سے، بیچارے کریں بھی تو کیااب ان کی فلمیں تو انہیں پبلسٹی دلوانے سے رہیں تو انہوں نے سوچا ہوگا کہ کیوں نے وہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیں۔ آجکل انڈسٹری کی ملکہ رانی مکھرجی اور چھوٹے بی یعنی ابھیشیک بچن کی دوستی کے بہت چرچے ہیں اور دونوں میں بہت نزدیکیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں لیکن اس مرتبہ ابھیشیک خاصے پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں ظاہر ہے دودھ کا جلا چھاج بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ بھئی یہ سب کیا چل رہا ہے تو انہوں نے جھٹ اسے اچھی دوستی کا نام دے دیا لیکن جس طرح ہر فلمی پارٹی میں دونوں ساتھ نظر آتے ہیں اور رانی بڑے احترام سے جیا اور امیتابھ کے پیر چھوتی ہیں اس سے لگتا ہے کہ اندر ہی اندر کچھ پک رہا ہے۔  |  تلاش رشتہ |
ابھیشیک اپنے والد کی طرح کامیاب اور ایک اچھا ادکار بننا چاہتے ہیں اور پوری طرح ان کے نقش قدم پر چلنے کے خواہش مند ہیں اور ان کے والدین کی جوڑی کو دیکھنے کے بعد جب رانی اور ان پر نظر ڈالی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ واقعی سچے دل سے پاپا کی پرچھائیں بننا چاہتے ہیں ہماری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں۔ |